کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 130
(انہوں (یعنی اللہ تعالیٰ) نے فرمایا: ’’اگر تمہارے بے نکاح مرد، عورتیں، غلام اور لونڈیاں فقر و فاقہ والے ہیں، تو یقینا اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی فرمادیں گے۔ اُن کا افلاس تمہارے لیے اُن کے نکاح کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ ہم نے اس (یعنی آیت کی تفسیر) کے متعلق جو بات بیان کی ہے، وہی اہلِ تفسیر نے بیان کی ہے۔) ii: حافظ ابن جوزی نے قلم بند کیا ہے: اللہ تعالیٰ نے آزاد لوگوں کے متعلق فرمایا: {اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ} پھر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’فأَخْبَرَہُمْ أَنَّ النِّکَاحَ سَبَبٌ لِّنَفْيِ الْفَقْرِ۔‘‘ [1] (پس انہوں (یعنی اللہ تعالیٰ) نے انہیں خبر دی، کہ بلاشبہ نکاح فقر دور کرنے کا سبب ہے۔) iii: علامہ قرطبی رقم طراز ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے آزاد لوگوں کے متعلق فرمایا: أَيْ لَا تَمْتَنِعُوْا عَنِ التَّزْوِیْجِ بِسَبَبِ فَقْرِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃِ {اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ}۔ وَہٰذَا وَعْدٌ م بِالْغِنٰی لِلْمُتَزَوِّجِیْنَ طَلْبَ رِضَا اللّٰہِ وَاعْتِصَامًا مِّنْ مَّعَاصِیْہِ۔[2] (یعنی مرد اور عورت کی مفلسی کے سبب شادی کرنے سے نہ رکو (ترجمہ: اگر وہ فقیر ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کردیں گے۔) یہ تونگری کا وعدہ ان (لوگوں) کے لیے ہے، جواللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور گناہوں سے بچنے کی غرض سے شادی کرتے ہیں۔ [1] زاد المسیر ۶؍ ۳۶۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۱۲/۲۴۱۔