کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 125
-۷- نکاح رزق کے اسباب میں سے ایک (نکاح کا کرنا) ہے۔ درجِ ذیل دو عنوانات کے ضمن میں قدرے تفصیل ملاحظہ فرمایئے: ا: سات دلائل ب: ان دلائل کے حوالے سے چار باتیں ا: سات دلائل: ۱: ارشادِ باری تعالیٰ: {وَاَنْکِحُوْا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِِمَآئِکُمْ اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ}[1] (اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کردو اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں سے، جو نیک ہیں، (ان کا بھی)۔اگر وہ فقیر ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں غنی کردیں گے اور اللہ تعالیٰ وسعت والے اور خوب جاننے والے ہیں۔) ۲: حضراتِ ائمہ احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابویعلٰی، ابن حبان، حاکم، بیہقی اور بغوی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، (کہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] سورۃ النور / الآیۃ ۳۲۔