کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 121
علامہ رازی کا مقصود یہ ہے، کہ ان کی پیش کردہ آیتِ شریفہ متقی لوگوں کے تجارت اور بیع و شراء کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ ۴: زیرِ بحث آیت ِکریمہ {وَاْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ…} سے مراد … واللہ تعالیٰ أعلم… یہ ہے، کہ اپنی معاشی جدوجہد میں مشغولیت کو ترکِ نماز کے لیے بہانہ نہ بنایا جائے، کیونکہ جن کے لیے نماز ادا کرنی ہے، صرف وہ ہی رزق دیتے ہیں، تو وہ نماز قائم کرنے والوں کو رزق سے کیوں محروم کریں گے، بلکہ وہ تو اُسے باقاعدگی سے قائم کرنے والوں کے لیے اپنے رزق کے دروازے کھول دیں گے۔ بالفاظِ دیگر … جیسے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے بیان کیا ہے… اگر فرض نماز اور کسبِ معاش میں تعارض ہو، تو اللہ تعالیٰ اجازت نہیں دیتا، کہ کسبِ معاش کے مقابلے میں نماز ترک کردو۔ نماز بہرحال ادا کرنی ہے۔ روزی پہنچانے والا وہی اللہ ہے، جس کی نماز پڑھتے ہیں۔[1] گفتگو کا خلاصہ یہ ہے، کہ روزی کے طلب گار نماز قائم کرنے کا اپنے گھر والوںکو حکم دیں اور خود بھی خوب پابندی سے اُسے قائم کریں۔ اُن کے اس مبارک عمل سے اللہ کریم اُن کی معاشی جدوجہد کو ثمر آور اور بابرکت بنا کر اُن کے لیے وہاں سے رزق کے اسباب پیدا فرمادیں گے، جہاں اُن کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ اے اللہ کریم! ہم ناکاروں اور ہماری نسلوں کو اس مبارک عمل کے موت تک کرنے کی توفیق عطا فرمادیجیے۔ إِنَّکَ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔  [1] ملاحظہ ہو: قرآن مجید ترجمہ و تفسیر، ف۹، ص ۴۲۸۔