کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 117
اللہ تعالیٰ اُن سے رزق طلب نہیں کرتے، بلکہ وہ اُن کے رزق کے خود ذمہ دار ہیں۔ ب: دلیل کے حوالے سے تین باتیں: ۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آیتِ شریفہ پر عمل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سختی اور تنگ دستی آنے پر اپنے اہلِ خانہ کو نماز کا حکم دیتے اور اسی آیت شریفہ کی تلاوت کرتے۔ حضراتِ ائمہ ابوعُبید، سعید بن منصور، ابن منذر، طبری، ابونُعیم اور بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن سَلام رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’ کَانَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا نَزَلَتْ بِأَہْلِہِ الشِّدَّۃُ أَوْ ضِیْقٌ، أَمَرَہُمْ بِالصَّلَاۃِ، وتلا: {وَاْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ }۔‘‘[1] (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر سختی یا تنگ دستی آتی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز کا حکم دیتے اور اس آیت {وَاْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ } کی تلاوت فرماتے۔) ۲: بکر مزنی کا آیت ِشریفہ اور سنت ِکے مطابق طرزِ عمل: حافظ ابن جوزی اسی آیت کی تفسیر کے ضمن میں رقم طراز ہیں: ’’وَکَانَ بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِيُّ إِذَآ اَصَابَ أَہْلَہٗ خَصَاصَۃٌ قَالَ: ’’قُوْمُوْا، فَصَلُّوْا۔‘‘ ثُمَّ یَقُوْلُ: ’’بِہٰذَا أَمَرَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَرَسُوْلُہٗ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔‘‘ وَیَتْلُوْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ۔‘‘[2] [1] بحوالہ: روح المعاني ۱۶/۲۸۵۔ علامہ الوسی لکھتے ہیں، کہ اس کی (سند صحیح] ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۶/۲۸۵)۔علامہ الوسی نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی بات امام احمد کی کتاب الزہد کے حوالے سے بھی نقل کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۶/۲۸۵)۔ [2] زاد المسیر ۵/۳۳۶۔