کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 114
صیغہ تاکید (وَلَنُحْیِیَنّہٗ) کے ساتھ فرمایا۔ اس میں (لام) (لام توکید) اور (نون) (نون ثقیلہ) ہے۔ اللہ تعالیٰ تاکید کے بغیر بھی اپنے کیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے۔ {اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ}[1] (بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے)۔ وہ اپنا وعدہ سب سے زیادہ پورا فرمانے والے ہیں۔ {وَ مَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ}[2] (اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟) تو جب اللہ کریم کسی وعدے کو تاکید کے ساتھ فرمائیں، تو وہ کس قدر قطعی، حتمی اور یقینی ہوگا! ۴: عمل صالح سے مراد: (عمل صالح) سے مراد وہ عمل ہے، کہ جس کے (کرنے والے کا مقصود رضائے الٰہی ہو) اور (وہ عمل کتاب و سنت کی اتباع میں ہو)۔ [3] ۵: (مُؤمِنًا) اور (حَسَنَۃً) اسمائے نکرہ لانے کی حکمت: پہلی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (مؤمنًا) اور (حَسَنَۃٌ) فرمایا اور یہ دونوں الفاظ اسمائے نکرہ ہیں اور اس بنا پر حدیث شریف کا معنٰی - واللہ تعالیٰ أعلم- یہ ہوگا: (بلاشبہ اللہ تعالیٰ (کسی مؤمن) کی (کسی بھی نیکی) کے بارے میں ظلم نہیں کرتے)۔ کیونکہ (اسمِ نکرہ) (عموم کا فائدہ) دیتا ہے۔ اس طرح رب ذوالجلال کا یہ معاملہ سب مومنوں کے ساتھ، اُن کی سب نیکیوں کے حوالے سے ہے۔ [1] سورۃ آل عمران / جزء من رقم الآیۃ ۹۔ [2] سورۃ التوبۃ / جزء من رقم الآیۃ ۱۱۱۔ [3] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۲/۶۴۵۔