کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 111
’’إِنَّ الْکَافِرَ، إِذَا عَمِلَ حَسَنَۃً أُطْعِمَ بِہَا طُعْمَۃً مِّنَ الدُّنْیَا۔ وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللّٰہَ یَدَّخِرُ لَہٗ حَسَنَاتِہٖ فِيْ الْآخِرَۃِ، وَیُعْقِبُہٗ رِزْقًا فِيْ الدُّنْیَا، عَلٰی طَاعَتِہٖ۔‘‘[1] (بلاشبہ جب کافر کوئی نیکی کرتا ہے، تو اُس کے سبب دنیا سے (کچھ) کھانا (یعنی رزق) اُسے کھلایا جاتا ہے، لیکن رہا مؤمن، تو اُس کا معاملہ یہ ہے ، کہ اُس کی نیکیوں کو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے آخرت میں محفوظ کردیتے ہیں اور اُس کی طاعت گزاری کی بنا پر اُسے دنیا میں رزق دیتے ہیں۔) ب: ان دلائل کے حوالے سے آٹھ باتیں: ۱: آیتِ شریفہ کے متعلق چار اقوال: حَیَاۃً طَیِّبَۃً) (پاکیزہ زندگی) اور آخرت میں اس کے عمل سے بہتر بدلہ عطا فرمائیں گے۔ (حَیَاۃً طَیِّبَۃً) اپنے اندر ہر جانب سے حاصل ہونے والی راحت کو سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور علماء کے ایک گروہ سے اس کی تفسیر (پاکیزہ حلال رزق) نقل کی گئی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی تفسیر (قناعت) نقل کی گئی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، عکرمہ اور وہب بن منَبِّہ نے بھی یہی بیان کیا ہے۔ [1] صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین و أحکامہم ، رقم الحدیث ۵۷۔ (۲۸۰۸)، ۴/۲۱۶۲۔