کتاب: رجال القرآن 5 - صفحہ 276
بات نہیں۔ ایک عورت نے ابوسفیان کی بات سنی تو وہ دوڑتی ہوئی اس تک پہنچی۔ اس کے کئی رشتے دار مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں مارے گئے تھے۔ یہ عورت ابوسفیان سے لڑنے لگی کہ تم لوگوں کو بزدلی کا سبق دے رہے ہو۔ ابوسفیان نے اس عورت پر سختی کی اور پھر زور سے پکارنے لگا:
اے لوگو!تمھیں یہ عورت دھوکے میں نہ ڈال دے یقیناً محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)ایک ایسے لشکر کے ساتھ آئے ہیں جس کا سامنا نہیں کیا جا سکتا۔ مجمعے سے ایک اور آواز بلند ہوئی، لوگ اس کی طرف متو جہ ہوئے، وہ مدینہ سے آئے ہوئے لشکر کا مجاہد لگتا تھا۔
وہ مجمعے کو الگ الگ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ امن والا ہے جس نے اپنے گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا وہ بھی امن والا ہے۔ اور جو مسجد میں داخل ہو گیا وہ بھی امن والا ہے۔ لوگ اپنے گھروں اور مسجد کی طرف جانے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ پورا ہو گیا اور اہلِ مکہ نے اپنے دروازے اسلام کے جانبازوں کے لیے کھول دیے۔
بیت اللہ میں موجود 360 بتوں کو توڑ دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سچ ثابت ہوا:
﴿ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا،لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا ،وَيَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِيزًا ﴾
’’(اے نبی!) بلاشبہ ہم نے آپ کو فتح مبین دی۔تاکہ اللہ آپ کے لیے آپ کی اگلی پچھلی ہر غلطی معاف کردے، اور آپ پر اپنی نعمت پوری کرے، اور آپکو صراط مستقیم کی ہدایت دے۔ (تاکہ) اللہ آپ کی بڑی زبردست مدد