کتاب: رجال القرآن 5 - صفحہ 275
کے ساتھ جینے کا سبق سکھائے اور مسلم ممالک کو غیرمسلموں کی سازشوں سے بچانے کے لیے اہم کردارادا کرے۔ اے غور و فکر کرنے اور عقل رکھنے والو! کیا تم میں کوئی بھی عباس رضی اللہ عنہ کی سوچ رکھنے والا نہیں ہے؟
مکہ میں قریش کے ظلم و ستم سے مسلمانوں کی حفاظت کرنے میں عباس رضی اللہ عنہ کا عظیم کردار ہے جسے تاریخ نے سنہرے حروف میں محفوظ کرلیا ہے۔ یقیناً مکہ کی فتح میں بھی ان کا کردار بہت عظیم تھا، انھوں نے اپنی آراء سے لوگوں کو جنگ سے روکے رکھا اور عرب کے طاقتوروں کو ایسی جنگ سے بچایا جو ان کے بہادروں اور سالاروں کو ختم کرنے کے علاوہ اس جماعت کا بھی نقصان کر سکتی تھی جو اللہ کے دین کو دنیا پر غالب کرنے کا عزم کیے ہوئے تھی۔ اور ان کو رجالِ کار کی اشد ضرورت تھی۔
اللہ کے دین کو دنیا پر غالب کرنے کا عزم لیے ہوئے یہ محمدی لشکر جب مکہ میں داخل ہوا قریش کے سردار ابوسفیان کے جتھے کے ساتھ ان کا مقابلہ ہوا تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے منتشر ہو گیا۔ مسلمان بہت بڑے لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے تھے قریش پر اتنے بڑے لشکر کی ہیبت طاری ہو گئی اور وہ منتشر ہو گئے۔ ابوسفیان بھاگتا ہوا ایک ٹیلے پر جا کھڑا ہوا اور مسلمانوں کے عظیم الشان لشکر کا مشاہدہ کرنے لگا۔ وہ لشکر تیز قدموں سے مکہ کی طرف بڑھ رہا تھا اور کیل کانٹے سے لیس تھا، ان کی آنکھوں میں ایمان کی چمک تھی اور ان کے سینے عزم و یقین کی قوت سے تنے ہوئے تھے۔۔
تھوڑی دیر لشکر کا مشاہدہ کرنے کے بعد ابوسفیان جلدی سے ٹیلے سے اترا، بھاگتا ہوا مکہ میں داخل ہو گیا اور زور دار آواز میں چلانے لگا: اے قریش کی جماعت! محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اپنے ساتھ اتنابڑا لشکر لے کر آرہے ہیں جس کا مقابلہ کرنا تمھارے بس کی