کتاب: رجال القرآن 5 - صفحہ 274
کوشش کرتے تھے اور جو مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ رکھتا تھا اسے سواری مہیا کرتے تھے۔ ان سب کاموں کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ قریش کی نقل و حرکت اور ان سکیموں پر کڑی نظر رکھتے تھے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف کرتے تھے، وہ یہ ساری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تک پہنچاتے تھے تاکہ انجانے میں ان پر کوئی مصیبت نہ ٹوٹ پڑے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کام اس وقت کیا جب دعوتِ اسلام کی ابتدا تھی اور اسلام مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔ آج بھی امت اسلامیہ ایک نئے عباس کی محتاج ہے کہ جو امت مسلمہ کو خود دار بنائے اور ان کے قرضے اتار کر انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا درس دے۔ آج کفرو الحاد کی فکری یلغار ہو رہی ہے، صلیبی و صہیونی قوتیں دن بدن مسلمانوں کے خلاف اپنا دائرہ کار وسیع کر رہی ہیں، یقیناً آج عباس رضی اللہ عنہ جیسے جری لیڈر کی ضرورت ہے جو طاغوتی طاقتوں کے سامنے بندھ باندھ سکے اور ملت اسلامیہ کی رگوں میں اسلامی غیرت کی بجلیاں بھر دے۔ امت اسلامیہ ایسے ہی شیردل جوان کی محتاج ہے کہ جو مسلمانوں کے حالات اور پریشانیوں کو مسلم قیادت کے علم میں لائے تا کہ بصیرت والی مسلم قیادت مسلمانوں کو کشمیر، افغانستان، برما، صومالیہ، فلسطین، موریطانیہ، جزر القمر، حبشہ اور فلپائن میں صہیونی اور صلیبی سازشوں سے بچائے۔ وہ نیاعباس کب آئے گا؟ جو مسلمانوں کی عزت کو سرعام نیلام ہونے سے بچائے اور ان کی اولاد کو مارکس اور لینن کے الحاد سے بچائے۔ ڈارون اور فرائڈ کے گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھے، عالم اسلام کے حکمرانوں کی دولت کی ہوس سے ہٹا کر خود داری