کتاب: رجال القرآن 5 - صفحہ 273
کریں گے سوائے اس کے کہ تم ان پر غلبہ حاصل کر لو۔
عباس رضی اللہ عنہ کی رائے ہمیشہ لوگوں کی بھلائی اور ان کی طبیعتوں کے مطابق ہوتی تھی ان کا مؤقف ایک ایسے جنگجو شہسوار جیسا ہوتا تھا جو تلواروں کی جھنکار اور شہسواروں کی یلغار میں اپنے لشکر کے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ انصار مدینہ کے ساتھ ہونے والے مکالمہ سے مطمئن ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا عندیہ دے دیا کہ یہ لوگ آپ کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
پھر انھوں نے اپنے عظمت مآب بھتیجے کا ہاتھ انصار کے ہاتھ میں دے کر اس پر اللہ کو گواہ بنا یا۔ پھر انصار سے بیعت لی اور آخر میں اپنے رب سے اس بیعت کی کامیابی کے لیے دعا کی۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آنے کے متعلق مشورہ طلب کیا تا کہ وہ بھی ہجرت کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مکہ ہی میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا تا کہ وہ ایک بڑی مہم سر کر سکیں اور ایک بہت بڑی ذمہ داری نبھا سکیں، انھیں یہ فرض سونپا گیا کہ وہ مکہ میں رہ کر ان کمزور مسلمانوں کی مدد کریں جن کی ہجرت کے درمیان سنگین حالات حائل ہو گئے تھے۔
عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت کی اور مکہ میں اس مومن جماعت کے ساتھ ٹھہرے رہے جنھوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کمزور مسلمانوں کی مدد کرتے تھے، ان کو سہارا دیتے تھے، جو لوگ مقروض تھے ان کے قرضے اتارنے کی