کتاب: رجال القرآن 5 - صفحہ 270
’’اگر اللہ تمھارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو تمھیں اس (فدیے)سے کہیں بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ [1]
عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھ سے خیر کا جو وعدہ کیا وہ سچ ثابت ہوا۔ اس نے مجھے بیس اوقیہ کے بدلے بیس غلام دیے اور میں اپنے رب کی طرف سے مغفرت کی امید رکھتا ہوں۔[2]
آخر ان کے پاس اتنا مال کہاں سے آیا جس سے انھوں نے بیس غلام خرید لیے؟ کیا ان کے پاس اپنا اور مال بھی موجود تھا جس سے وہ تجارت کرتے؟
ابن سعد اپنی کتاب الطبقات الکبریٰ میں ذکر کرتے ہیں کہ علاء بن حضرمی نے بحرین سے بہت زیادہ مال بھیجا، اس سے زیادہ مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے چٹائی پر بچھا دیا گیا، نماز کے لیے اذان دی گئی، آپ تشریف لائے۔ لوگوں نے جب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا ہے تو وہ کثیر تعداد میں اکٹھے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کوناپ تول کر نہیں بلکہ فراخدلی سے کھلا مال دے رہے تھے۔ عباس رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بدرکے دن میں نے اپنا اور عقیل بن ابوطالب کا فدیہ بھی دیا تھا، لہٰذا مجھے اس کا مال بھی دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عباس! جتنا مال اٹھا سکتے ہو، لے جاؤ۔‘‘
عباس رضی اللہ عنہ اپنی چادر بچھا کر مال ڈالنے لگے، جب چادر بھر گئی اورمال اٹھانے لگے
[1] الانفال 70:8۔
[2] مجمع الزوائد:7؍8، و المستدرک للحاکم:3؍324، والدر المنثور:3؍204۔