کتاب: ریاض الخطبات (جلد اول) - صفحہ 49
يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ () مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ()﴾[1] (لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہوجائیں ،بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا بزدل ہے طلب کرنے والا اور بڑا بزدل ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔) "مکھی انسانی خوراک میں سے اگر کوئی چیز چھین کر لے جائےتو انسان اس کو واپس نہیں لے سکتا۔اس کی خاص وجہ یہ ہےکہ مکھی جو خوراک بھی لے کر جاتی ہےوہ اپنے منہ یا پیٹ میں ہضم نہیں کرتی بلکہ منہ سے باہر ہضم کرکے پھر منہ کے اندر لے جاتی ہے۔اس لیے اس ہضم شدہ خوراک کو اصل حالت میں واپس لینا انسان کے بس میں نہیں ہے۔مکھی کی خوراک کا طریقہ یہ ہےکہ مکھی خوراک پر کر اپنے منہ سے سونڈ جیسی لمبی نالی کے ذریعے سے خوراک پر ایک خاص قسم کا لعاب خارج کرتی ہے جس سے وہ خوراک تحلیل ہونے کے قابل ہوجاتی ہے۔اس خوراک کو مکھی اپنے حلق میں لگے ہوئے جاذب پمپ کی مدد سے اندر کھینچ کر کھا لیتی ہے۔" [2] "چھوٹے جانوروں میں سے مکھی ایک ایسا جانور ہے جو اپنی آنکھوں اور نظام ہضم میں باقی حشرات سے الگ ہے۔مکھی کی آنکھوں کے عدسے مسدسی شکل کے ہوتے ہیں جن سے ہر سمت کا وسیع وعریض علاقہ دیکھا جا سکتا ہے۔بعض مکھیوں کی آنکھ میں عدسوں کی تعداد 5000 تک بھی ہوتی ہے۔اس کی آنکھ کی گولائی میں بنی ہوئی ساخت اسے پیچھے دیکھنے میں بھی مدد دیتی ہےاور دشمنوں سے چوکنا رکھتی ہے۔" [3] چیونٹی کی مثال اور اس پر قرآ ن کی دعوت فکر [1] تفسیر ابن کثیر