کتاب: ریاض الخطبات (جلد اول) - صفحہ 48
تیسری مرتبہ اللہ کی طرف بلایا لیکن پھر بھی یہ منکر ہی رہا۔ اس بار بار کے انکار کے بعد فرشتے نے اس سے کہا اچھا تو اپنا لشکر تیار کر میں بھی اپنا لشکر لے آتا ہوں ، نمرود نے بڑا بھاری لشکر تیار کیا اور زبردست فوج کو لے کر سورج نکلنے کے وقت میدان میں آ ڈٹا، ادھر اللہ تعالیٰ نے مچھروں کا ایک دروازہ کھول دیا، بڑے بڑے مچھر اس کثرت سے آئے کہ لوگوں کو سورج بھی نظر نہ آتا تھا، اللہ کی یہ فوج نمرودیوں پر گری اور تھوڑی دیر میں ان کا خون تو کیا ان کا گوشت پوست سب کھا گئی اور سارے کے سارے یہیں ہلاک ہوگئے، ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا، انہی مچھروں میں سے ایک نمرود کے نتھنے میں گھس گیا اور چارسو سال تک اس کا دماغ چاٹتا رہا ایسے عذاب میں وہ رہا کہ اس سے موت ہزاروں درجے بہتر تھی اپنا سر دیواروں اور پتھروں پر مارتا پھرتا تھا، ہتھوڑوں سے کچلواتا تھا، یونہی رینگ رینگ کر بدنصیب نے ہلاکت پائی۔ اعاذنا اللہ۔" [1] مچھروں کے کاٹنے سے کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں ملیریا اور ڈینگی بخار مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتے ہیں ۔اس سائنسی دور میں مچھر کی انسانی زندگی میں تخریبی اثر انگیزی قابل فہم ہے۔ مکھی کی مثال اور اس پر قرآ ن کی دعوتِ فکر قرآن کریم میں مثالیں بیان کرنے کا بنیادی مقصد انسان کو دعوت غورو فکر دینا ہے۔چنانچہ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مچھر اور مکھی کی مثالیں بیان کی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا [1] تفسیر مدنی کبیر از مولانا اسحاق مدنی