کتاب: ریاض الخطبات (جلد اول) - صفحہ 302
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد کو اپنی شہادت کا اندازہ ہو گیا تھا اور حضرء عبداﷲ کی یہ کرامت چھ مہینے کے بعد بھی ان کی لاش صحیح اور سالم تھی۔ بد دعا قبول ہوئی حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے ارویٰ بنت اوس نے جھگڑا کیا اور حضرت مروان بن حکم (ولی مدینہ) تک اپنی شکایت پہنچائی اور اس دعویٰ کیا کہ زید نے اس کی کچھ زمین غصب کر لی ہے۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے (وعید) سننے کے بعد اس کی زمین کا کچھ حصہ غصب کر سکتا ہوں ؟ حضرت مروان رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ تم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا (وعید) سنی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "مَنْ اَخَذَ شِبْراً مِنَ الأَرْضِ ظُلْماً، طُوقه،، إِلَيٰ سَبْعِ اَرْضِیْنَ." (کہ جس نے نا جائز طریقے سے کسی ایک بالشت زمین بھی ہتھیالی تو اس (قیامت والے دن) سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔) یہ سن کر حضرت مروان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کے بعد میں تم سے کوئی دلیل طلب نہیں کروں گا۔ پس حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے لیےاﷲکی بارگاہی میں بد دعا فرمائی: ''اَللّٰھُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃٌ، فَاعْمِ بَصَرِھَ، وَاقْتُلْھَا فِيْ اَرْضِھَا.'' (اے اﷲ! اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کی بینائی ختم کر دے اور اس کو اس کی زمین ہی میں موت دے۔) [1] البخاری ،محمد بن إسماعيل ، أبو عبد اللّٰه الجعفی (المتوفى: 256هـ):صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ہل یخرج المیت من القبر