کتاب: ریاض الخطبات (جلد اول) - صفحہ 281
رسول اللہ کی شفاعت کی امید رکھنا "ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ حصہ آپ کی شفاعت سے کس کو ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے یقینی طور پر یہ خیال تھا کہ ابوہریرہ تم سے پہلے کوئی یہ بات مجھ سے نہ پوچھے گا، کیونکہ میں نے تمہاری حرص حدیث پر دیکھ لی تھی، سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جو صدق دل سے یا اپنے خالص جی سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دے۔ " [1] "حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز مسلمان آپس میں کہتے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی کی سفارش لائی جائے لہذا سب مل کر حضرت آدم کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے والد ہیں ، اللہ نے تمہیں خود اپنے ہاتھ سے بنایا، ملائکہ سے سجدہ کرایا اور پھر تمام اشیاء کے نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائے، لہذا آپ اللہ کی بارگاہ میں ہم سب کی سفارش فرمائیں تاکہ یہ مصیبت ختم ہو کر چین حاصل ہو حضرت آدم فرمائیں گے آج مجھے اپنا گناہ یاد آرہا ہے مجھے پروردگار کی بارگاہ میں جاتے ہوئے حجاب معلوم ہوتا ہے لہذا تم سب حضرت نوح کے پاس جاؤ وہ اللہ کی طرف سے زمین میں پہلے نبی بنائے گئے تھے، چنانچہ سب ان کی خدمت میں پہنچیں گے اور اپنی درخواست پیش کریں گے، وہ کہیں گے کہ آج مجھ میں یہ ہمت نہیں ہے میں خود اس کی بارگاہ میں شرم کر رہا ہوں لہذا تم سب حضرت ابراہیم کی خدمت میں جاؤ، سب خلیل اللہ کے پاس پہنچیں گے اور ان سے اپنی حاجت بیان کریں گے وہ فرمائیں گے میں اس قابل کہاں تم سب حضرت موسیٰ کی خدمت میں جاؤ، وہ کلیم اللہ ہیں اور اللہ نے انہیں تورات دی ہے، تو سب لوگ حاضر خدمت ہوں گے، تو وہ کہیں گے کہ مجھ میں یہ ہمت نہیں ہے مجھے ایک آدمی کے خون ناحق کا خیال بارگاہ الٰہی میں جانے سے مانع ہے، لہذا تم سب حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ وہ روح اللہ، اللہ کے بندے، رسول اور کلمۃ اللہ ہیں ، سب ان کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ کہ اللہ نے ان کے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے ہیں تو میں سب کو لے کر اللہ کی بارہ گاہ میں حاضر ہونے کی اجازت چاہوں گا، اجازت ملنے پر میں سجدہ میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا سجدہ میں رہوں گا حکم الٰہی ہوگا، اے محمد! سر کو سجدہ سے اٹھاؤ مانگو کیا مانگتے ہو ہم سنیں گے اور تمہاری سفارش قبول کریں گے، میں سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ تعریف کروں گا جو مجھے اس کی طرف سے سکھائی جائے گی اس کے بعد سفارش کروں گا جس کی حد مقرر کردی جائے گی میں ایک [1] الترمذی ،محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك ، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ):جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1856