کتاب: ریاض الخطبات (جلد اول) - صفحہ 272
7- ذکر نجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ [1] 8- ذکر سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔[2] 9- ذکر سے دل کی صفائی ہوتی ہے۔ [3] 10- ذکر افضل ترین عمل ہے ۔ [4] 11-کثرت ذکر بلندی درجات 'علم مراتب اور ارتفاع منازل کا باعث ہے (( قال النبی صلي الله عليه وسلم ''سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ قَالُوْا وَمَا الْمُفَرِّدُوْنَ قَالَ الذَّاکِرُوْنَ اللهَ کَثِیْرًا وَالذَّاکِرَاتِ'(١٢))) (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مفردون سبقت لے گئے پوچھا گیا مفردون کون ہیں فرمایا اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں ) اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنا ذکر کرنے والوں میں شمار کرلے اور ہمیں اپنا قرب نصیب فرمائے۔ (آمین) [1] المؤمن : ١٨ [2] سیف اللّٰه خالد:تفسیر دعوۃ القرآن [3] مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيری النيسابوری (المتوفى: 261هـ): صحیح مسلم)المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم [4] سورۃ الرعد :28 [5] مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيری النيسابوری (المتوفى: 261هـ): صحیح مسلم)المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم [6] مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيری النيسابوری (المتوفى: 261هـ): صحیح مسلم)المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم [7] مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيری النيسابوری (المتوفى: 261هـ): صحیح مسلم)المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم [8] البخاری ،محمد بن إسماعيل ، أبو عبد اللّٰه الجعفی (المتوفى: 256هـ):صحیح البخاری تعلیقاً