کتاب: ریاض الخطبات (جلد اول) - صفحہ 219
ٹیک لگائے ہوئے تھے، اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، ۔ ۔ ۔"[1] " ۔ ۔ ۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ) میں اپنے کپڑے لے کر روانہ ہوگیا حتیٰ کہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے ایک بالا خانہ میں تھے جس پر چڑھنے کیلئے ایک زینہ لگا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ غلام سیڑھی کے سرے پر تھا میں نے اس سے کہا کہ جا کر کہہ کہ یہ عمر بن خطاب ہے چنانچہ مجھے اجازت ملی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے اندر پہنچ کر میں نے آپ سے یہ قصہ بیان کیا جب ام سلمہ رضی اللہ عنھا کی بات بتائی تو آپ مسکرائے اس وقت آپ ایک بوریئے پر لیٹے ہوئے تھے آپ کے جسم اور بوریئے کے درمیان کچھ نہ تھا اور آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی اور پاؤں کے پاس مسلم کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کے پاس کچے چمڑے لٹکے تھے میں نے آپ کے پہلو میں بوریئے کا نشان دیکھا تو میں روپڑا آپ نے فرمایا تم کیوں روتے ہو میں نے کہا یا رسول اللہ قیصر و کسری تو اس طرح آرام میں گزارتے ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہو کر اس حالت میں ؟ آپ نے فرمایا کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ہو۔ ۔ ۔ ۔" [2] ارباب دانش و بینش حیات دنیا پر دار آخرت کو ترجیح دیتے ہیں یہی وجہ ہے ارباب دانش و بینش حیات دنیا پر دار آخرت کو ترجیح دیتے ہیں اسے اپنا مطمع نظر اور غایت اولیٰ بناتے ہیں ان کی ساری کوشش محنت اور تگ و دو اخروی زندگانی کے لئے مختص ہوتی ہے ان کا حب و بغض ' صلہ رحمی اور تعلق داری ' صدقہئ خیرات ' عفو و درگزر حتیٰ کہ ان کا جینا مرنا سب رضائے الہی کے لئے ہوتا ہے ۔ اِنَّ لِلّٰہِ عِبَاداً فُطُناً طَلَّقُوْا الدُّنْیَا وَ خَافُوْا الْفِتَنَا نَظَرُوْا فِیْہَا فَلَمَّا عَلِمُوْا اَنَّہَا لَیْسَتْ لِحَیٍّ وَّ طَنَا جَعَلُوْ ہَا لُجَّۃً وَ اتَّخَذُوْا صَالِحَ الْاَعْمَالِ فِیْہَا سُفُناً [1] أبو عبد اللّٰه أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبانی (المتوفى: 241هـ): مسند الإمام أحمد بن حنبل,جلد40،صفحہ480،حدیث نمبر:24419، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون ،إشراف: د عبد اللّٰه بن عبد المحسن التركی ،مؤسسة الرسالة ،الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م۔ (3) إسناده ضعيف. سويد غير منسوب، ترجم له الدارقطنی فی "المؤتلف [2] البخاری ،محمد بن إسماعيل ، أبو عبد اللّٰه الجعفی (المتوفى: 256هـ):صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 420 .