کتاب: ریاض الخطبات (جلد اول) - صفحہ 120
﴿ الم (1) أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (2) وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ (3)﴾ [1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ،ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ ان اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں ۔ بقول اقبال : چوں می گو یم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلات " لَا اِلٰہَ" را یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا "سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کریں گے ؟ کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرمائیں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم سے پہلے ایک آدمی کے لیے گڑھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں کھڑا کر کے آرا لا کر اس کے سر پہ رکھ کر اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا، لیکن یہ (اذیت) اسے اس کے دین سے نہ روکتی، اسی طرح کسی کی ہڈیوں اور پٹھوں سے گوشت لوہے کی کنگھیوں کے ساتھ اتار دیا جاتا، لیکن یہ (اذیت) بھی اسے دین سے نہ روک سکتی تھی، ۔ ۔ ۔" [2] کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں ''جیسی کرنی ویسی بھرنی''یہ کہاوت لغت اردو میں زبان زد عام و خاص ہے انگریزی میں اس کے ہم معنی ضرب المثل (''As you sow so shall you reap") ہے۔ جہان رنگ و بو میں کو ئی جیسا عمل کرے گا اسے ویسا ہی صلہ اور ثمرہ ملے گا نیکی کی صورت میں اچھا جبکہ بدی کی صورت میں برا صلہ ملے گا ۔ بقول شاعر: [1] مولانا محمد اویس سرور : دیوان حضرت حسان بن ثابت انصاری ،صفحہ : 335، 336، مترجم۔ البرقوقی ،عبدالرحمان:شرح دیوان حضرت حسان بن ثابت الانصاری ،صفحہ : 31۰۔ درج بالا اشعار کے علاوہ تین اشعار مزید انھوں نے کہے، جن میں تقدیر کا ہو کر رہنا اور شہدائے بدر پرپر اظہار غم کیا ہے۔ یہ اشعار بنیادی طور پر انھوں نے شہدائے بدر کے متعلق ہی کہے ہیں۔