کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 496
لِاَھْلِھَا فِیْھَا فَرَجَعَ اِلَیْہِ وَقَالَ وَعِزَّتِکَ اِلّاَدَخَلَھَا مِنْ عِبَادِکَ لاَ یَسْمَعُ بِھَا اَحَدٌ مِنْ عِبَادِکَ اِلَّا دَخَلَھَا فَاَمَرَبِھَا فَحُجّبَتْ بِالْمَکَّارِہٖ وَقَالَ اِرْجِعْ اِلَیْھَا فَرَجَعَ فَاِذَا اِرْتَدَ فَحُجَبَتْ بِالْمَکَارہٖ فَقَالَ وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَّا یَدْخُلَھَا اَحَدٌ قَالَ اَذْھَبْ اِلَی النَّارِ فَانْظُرْ اَلَیْھَا وَاِلٰی مَا اَعْدَدْتُ لِاَ ھْلِھَا فِیْھَا فَجَآئَ فَنَظَرَ اِلَیْھَا وَاِلٰی مَا اَعَدَّ اللّٰہُ لِاَ ھْلِھَا فِیْھَا فَاِذَا ھِیَ یَرْکَبُ بَعْضُھَا بَعْضًا فَقَالَ وَعِزَّتِکَ لاَ یَسْمَعُ بِھَا اَحَدُ فَیَدْخُلَھَا فَاَمَرَ بِھَا فَحُفَّتْ بِالشَّھَوَاتِ فَقَالَ ارْجعْ فَانْظُرْ اِلِیْھَا فَرَجَعَ اِلَیْھَا فَاِذَا ھِیَ قَدْ حُفَّتْ بِالشَّھَوَاتِ فَرَجَعَ اِلَیْہِ فَقَالَ وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَّا یَنْجُوْا مِنْھَا اَحَدٌ۔))
’’خدا نے جب جنت کو تخلیق فرمایا تو معائنہ کے لیے جبریل امین علیہ السلام کو بھیجا کہ جنت اور اہل جنت کے لیے تیارکردہ نعمتوں کو جا کر ملاحظہ کر آئیں ۔ جبریل علیہ السلام گئے اور جنت اور جنت کی تمام چیزوں کو ملاحظہ فرمایا اور واپس تشریف لا کر فرمانے لگے: خدایا! تیرے عزت و جلال کی قسم! اسے توجو بھی سن پائے گا ضرور داخل ہو کر رہے گا تو اللہ عزوجل نے اس کے چاروں طرف مصائب و تکالیف کی دیوار کھینچ دینے کا حکم صادر فرمایا جس کی فوراً تعمیل ہوئی اور دوبارہ جبریل علیہ السلام کو ملاحظہ کے لیے روانہ فرمایا۔ جبریل علیہ السلام نے دیکھا تو مصائب و تکالیف کی چار دیواری سے گھرا پایا تو آکر کہنے لگے: خدایا! تیری عزت کی قسم! اب تو مجھے ڈر ہے کہ وہاں کسی ایک کا بھی گزر نہ ہو سکے۔ پھر باری تعالیٰ نے دوزخ اور دوزخیوں کے لیے وہاں کے تیارکردہ عذاب کو دیکھنے کا حکم دیا، تو جبریل علیہ السلام آکر دیکھتے ہیں کہ آگ کے شعلے باہم لپٹ لپٹ کر ایک دوسرے کو کھائے جا رہے ہیں ۔