کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 487
اور ہر جگہ انہیں ذلیل و رسوا کر کے دم لیں ۔ چنانچہ اللہ عزو جل نے کتابِ عزیزمیں اس حقیقت کو اکثر جگہ بیان فرمایا ہے : ﴿وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْکُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّنَّیْلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ﴾ (التوبۃ:۱۲۰) ’’مسلمانوں کے لیے ہر ایسے مقام کی راہ نوردی میں جو کفا رکے لیے جل اٹھنے کا موجب ہو اور ہر ایسے مالِ غنیمت میں جو وہ دشمن سے چھین لائے ہوں ،ان کے دفتر اعمالِ صالح میں درج کیے جاتے ہیں ۔‘‘ دوسری جگہ ارشاد ہے: ﴿لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّار﴾ (الفتح:۲۹) ’’تاکہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کے ذریعے سے کفار کو غصہ دلائے۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا: ﴿وَ مَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً﴾ (النساء: ۱۰۰) ’’جو وطن چھوڑ کر راہِ خدا میں ہجرت کر جائے، خدا تعالیٰ اسے زمین میں بے شمار جاگیر، دولت اور فراخی و وسعت عطا فرمائے گا۔‘‘ ((مُرَاغَمًا)) سے مراد وہ مقام ہے جس میں دشمنانِ خدا تعالیٰ کو ذلیل و رسوا کیا جائے اور ان کی خوب خبر لی جائے، اور سچی محبت کی تو علامت یہی ہے کہ محب اپنے محبوب کے دشمنوں سے ہمیشہ بغض و عداوت رکھتا ہے اور انہیں ذلیل و رسوا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا۔ ۹۔ اس بات میں گہرا غور و فکر کہ وہ خواہش پرستی کے لیے پیدا نہیں ہوا، بلکہ کارکنانِ قضا و قدر نے اسے ایک عظیم الشان کام کے لیے تیار کیا ہے، جس کا حصول انکارِ معصیت