کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 424
بد ترین قولی و اعتقادی لغزشیں اور ان کی چار اقسام قسم اول: اس مقام پر عوام نے ٹھوکریں کھائی ہیں ، بلکہ اہل سلوک بھی یہاں لغزش سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ بعض نے قضا و قدر کا اقرار کیا، حقیقتِ کونیہ کی شہادت دی مگر حقیقت دینیہ کا انکار کر دیا۔ بنا بریں وہ توحید ربوبیت [1] کے اقرار یعنی خدائے تعالیٰ کو تمام کائنات کا خالق و مالک و رب تسلیم کرنے کے باوجود اس کے محبوب و پسندیدہ اور مبغوض و ناپسندیدہ کا موں میں فرق نہیں کرتے۔ مشہد جمع کو جس میں تمام مخلوق نیک و بد، مومن و کافر، متقی وفاجر، سچا پیغمبر اور جھوٹا اور جعلی نبی،جنتی و جہنمی، اولیاء اللہ اور دشمنان خدا، ملائکہ و مقربین و سرکش شیاطین سب کے سب مشترک مانتے ہیں ، نیز حقیقت کو نیہ یعنی صر ف خدا کو اپنا رب اور خالق و مالک سمجھنے کو بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ مگر جس توحید الوہیت میں خدائے عزوجل نے فرق کیا ہے، مثلاً اولیاء اللہ و اعداء اللہ، مومنین و کفار، نیکوکار و بدکار، اہل جنت اور اہل النار کا باہمی فرق، اس میں فرق نہیں کرتے۔ یہی توحید الوہیت ہے جس کے مفہوم میں صرف خدائے وحدہ لا شریک کی
[1] شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی تصانیف میں توحید الوہیت و توحید ربوبیت میں جا بجا فرق واضح کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ توحید دو قسم کی ہے: ایک یہ کہ تمام کائنات کا خالق و رازق ایک ہے، جو قادر مطلق ہے۔ اسے توحید ربوبیت کہتے ہیں ۔ دوم یہ کہ صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود سمجھا جائے، اسی کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے، اسی سے قضائے حاجات کی درخواست کی جائے اور اسی پر توکل اور اعتماد اور بھروسہ رکھا جائے اور دل میں اس کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہو۔ اس کا نام توحید الوہیت ہے۔ پہلی توحید کا تمام کو اعتراف ہے، بلکہ کفار و مشرکین کو بھی اس سے انکار نہیں ، اس لیے وہ تکمیل ایمان کے لیے کافی نہیں جب تک کہ دوسری قسم کی توحید کو شامل نہ کیا جائے جو کفر و اسلام میں فارق و فاصل ہے اور جس کے بغیر آدمی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اسی توحید کی تمام انبیاء علیہم السلام نے دعوت و تعلیم دی اور اسی کی طرف قرآن حکیم میں جا بجا دعوت دی گئی ہے۔ (مترجم)