کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 391
چنانچہ فرمایا:
﴿لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِِلَّا اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ (تکویر:۲۸،۲۹)
’’(قرآن) اسی کے لیے مفید ہے جو تم میں راہ راست پر چلنا چاہے اور تمہاری مشیت خدائی مشیت پر موقوف ہے۔‘‘
اورفرمایا:
﴿جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾ (السجدہ: ۱۷)
’’تمہارے عملوں کا بدلہ ہے ۔‘‘
افعال العباد کا خالق خدا ہے:
لیکن بندہ اور بندے کی قدرت، مشیت اور عمل کا بھی اللہ ہی خالق ہے کیونکہ وہی ہر شے کا رب و معبود اور ہر چیز کا خالق و مالک ہے۔‘‘