کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 390
فصل (۳) : مستطیع و غیر مستطیع کا فرق جو یہ کہتا ہے کہ ہمیں اپنے جملہ افعال میں کچھ اختیار ہے وہ بالکل جھوٹا ہے کیونکہ خدانے مستطیع قادر اور غیر مستطیع میں فرق رکھا ہے۔فرمایا: ﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ (التغابن:۱۶) ’’اللہ سے اپنے مقدر بھر ڈرو۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا ﴾ (آل عمران:۹۷) ’’لوگوں پر حج بیت اللہ خدائی فرض ہے جسے بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت و استطاعت ہو۔‘‘ نیز ارشاد باری ہے: ﴿اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّن ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً﴾ (الروم:۵۴) ’’خدا(قادر مطلق) ہے جس نے تمہیں کمزور حالت سے ( جو ماں کے پیٹ میں ہوتی ہے) پیدا کیا۔ پھر (طفلی کی) کمزوری کے بعد (جوانی کی طاقت دی) پھر توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپے کی حالت دی۔‘‘ مشیت وفعل انسانی: اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے کلام اللہ میں اکثر جگہ ارادہ و فعل ثابت کیا ہے۔