کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 348
بڑھائے گا اس لیے وہ ممنوع ہے اور اس لیے پچھنا لگانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے جیسے سونے والے کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگرچہ ریاح خارج ہونے کا اسے یقین نہ ہو، اس لیے کہ ریاح خارج ہو گئی ہو گی اور اسے معلوم ہی نہ ہوا ہو گا۔ اسی طرح یہاں بھی اس کے حلق میں خون چلا جاتا ہو گا اور اسے پتہ نہ چلتا ہو گا۔ رہا کان میں نشتر لگانے والا، تو اس کی حیثیت حاجم کی نہیں ہے، اس میں یہ مفہوم نابود ہے، اس لیے اس کاروزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اسی اگر حاجم اگر بوتل(قارورہ) نہ چوسے بلکہ کوئی اور چوسے یا کسی اور ذریعہ سے خون نکالے تواس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں حاجم کا لفظ اپنے معروف اور رائج معنی میں استعمال ہوا ہے اور اگر لفظ عام ہو تو اگرچہ کسی متعین شخص کو مراد لیا ہو لیکن سارے ہی لوگوں کے بارے میں حکم لاگو ہو گا کہ یہی شرعی قاعدہ [1] ہے۔ یعنی جو حکم امت کے ایک فرد پر نافذ ہو گا وہی تمام لوگوں کے اوپر نافذ ہو گا۔ یہ بہترین قاعدہ ہے۔ اس لفظ سے وہ ثابت نہیں ہوتا جو لفظی و معنوی لحاظ سے ثابت ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ شارط ( کان میں نشتر لگانے والا) حاجم میں شامل نہیں ہے جب کہ عقل و شریعت کی نگاہ میں بھی دونوں میں کافی بعد ہے۔ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ ۲۵ رجب ۱۳۸۰ھ بوقت صبح دمشق
[1] اصل نسخہ میں ’’للقاعدۃ الشرعیۃ‘‘ کے بجائے للعادۃ الشرعیۃ تھا اور یہ اصل میں تحریف ہے، اور شیخ الاسلام کے خط کی نقل کرنے والے سے بعید بھی نہیں ہے، اس لیے کہ شیخ الاسلام کا خط بہت خراب تھا۔ اپنی اکثر تحریروں میں نقطے چھوڑ دیاکرتے تھے، حتیٰ کہ خود انہیں دشواری پیش آتی تو اپنے شاگردوں سے مدد لیتے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے اور از اول تا آخر حمد اسی کے لیے ہے ، ’’سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔‘‘