کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 340
زیادہ مضبوط دلیل ہے جن کی روایت ابو قلابہ نے کی ہے انہوں نے اضطراب کی بات اس لیے کہی تھی کہ وہی حدیث ابو قلابہ سے دو سندوں سے مروی ہے۔[1] معلوم ہوا کہ یحییٰ بن سعید نے ابو قلابہ سے اسی حدیث کی دو سندوں کے ساتھ روایت کی ہے اس طرح متعدد طرق سے حدیث ان کے پاس ہے اور زہری نے حدیث بواسطہ سعید بواسطہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے اور کبھی کسی اور شخص کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے یہی حدیث ناسخ ہے چاہے تاریخ معلوم نہ ہو۔ جب دو حدیثیں آپس میں متعارض ہوں ایک اصل سے منتقل ہو رہی ہو اور دوسری اصل پر باقی رہے تو ناقل ہی کو ناسخ ہونے میں اصل ما نا جائے گا تاکہ دوبارہ حکم کی تبدیلی لازم نہ آئے اگر یہ طے ہو جائے کہ حجامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کو اس سے روکنے سے پہلے لگوائی تو حکم کی تبدیلی لازم نہیں آئے گی اور اگر یہ معلوم ہو کہ روکنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا تو دوبارہ حکم کی تبدیلی لازم آئے گی۔ اور یہ بات بھی ہے کہ جب روزہ واجب نہ ہو توروزہ کے وقت پچھنا لگوا کر روزہ توڑا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ نبی نفل روزوں کو ان کی وہ اہمیت نہ ہونے کی وجہ سے توڑ دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لاتے۔ اگر لوگ کہتے کہ ہمارے پاس کھانا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے اسے قریب کرو کیونکہ میں روزے سے تھا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کا حال اگرچہ معلوم نہ تھا، تاہم اس حدیث کامقصد یہ ہے کہ انہوں نے آپ کو دیکھا یا دیکھنے والوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
[1] ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور بخاری وغیرہ نے کہا ہے: یہ غیر محفوظ ہے۔ ان کی مراد رافع سے خاص طور پر ہے چاہے بخاری کی بات صحیح ہو یا احمد کی۔ لیکن یہ حدیث قطعی طور پر صحیح ہے بلکہ متواتر ہے مختلف صحابہ سے مروی ہے، جیسے ابوموسیٰ، معقل بن یسار، اسامہ بن زید، بلال، علی،عائشہ،ابو ہریرہ،انس،جابر، ابن عمر، سعد بن ابی وقاص، ابی یزیدانصاری، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم ۔ ان سب کی تخریج حافظ ابن حجر نے ’’ التلخیص ‘‘(۱۹۰) میں کی ہے۔ لیکن جمہور علماء کے نزدیک یہ حدیث منسوخ ہے اور التعلیق (ص ۴۹) میں اس کے منسوخ ہونے کی صحیح دلیل گزر چکی ہے۔