کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 337
عبد الرزاق سے روایت ہے وہ معمرسے اور وہ ابن خثیم سے اور وہ سعید بن جبیر سے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کرتے ہیں یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھی ہیں انہوں نے اس میں صائم کا ذکر نہیں کیا ہے۔[1]
میں کہتا ہوں : امام احمد نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے اس پر بخاری و مسلم متفق ہیں اسی لیے انہوں نے اس حدیث سے اعتراض کیا جس میں روزہ دار کے پچھنا لگوانے کا ذکر کیا ہے اور دونوں صرف محرم کے پچھنا لگوانے پر متفق ہیں ۔[2] جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کیا دونوں نے صحیحین میں بواسطہ عمرو بواسطہ طاؤس بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ حدیث نقل کی ہے کہ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا ااورآپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔‘‘
ان لوگوں نے حجامت والی حدیث کی نہایت کمزور تاویلات کی ہیں جیسے وہ کہتے ہیں : یہ دونوں غائب تھے یا وہ کہتے ہیں : دوسرے سبب سے یہ روزہ توڑتا ہے ۔
اس سلسلے میں سب سے بہتر تاویل وہ ہے جو امام شافعی نے اختیار کی ہے وہ کہتے ہیں
[1] میں کہتا ہوں : اگرچہ جن لوگوں کا امام احمد نے نام لیا ہے انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ دوسرے لوگوں نے تواس کا ذکر کیا ہے، جیسے بخاری کے نزدیک عکرمہ ہیں اور یہ حدیث گزر چکی ہے،ترمذی (۱:۱۴۹) کے ہاں میمون بن مہران ہیں اور اس کے الفاظ یہ ہیں آپ نے پچھنا لگوایااور آپ روزے سے تھے۔ اور فرمایا کہ حدیث حسن ہے اس سلسلے سے غریب ہے۔ اور زاد المعاد میں ابن قیم کا قول کہ صحیح نہیں ہے اس تحقیق سے قابل رد ہے اور فتح الباری (۴:۱۵۵) میں حافظ کے بقول یہ حدیث صحیح ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن ’’پچھنا لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے‘‘ کی حدیث کو منسوخ کرنے کے لیے مندرجہ بالا حدیث سے استدلال کرنا خالی از بحث نہیں ہے اس سلسلے میں حدیث ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے استدلال کرنا زیادہ موزوں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے والے کو حجامت (پچھنا لگوانے ) کی رخصت دی ہے۔ دارقطنی (۲۳۹) اور دوسروں نے صحیح سند کے ساتھ اس حدیث کی تخریج کی ہے، جیسا کہ فتح الباری میں ہے اس لیے اسے اختیار کرنا واجب ہے۔ اس لیے کہ رخصت عزیمت کے بعد ہی ہوتی ہے چنانچہ یہ حدیث ان احادیث کو منسوخ کر دیتی ہے جن میں حجامت (پچھنا ) کو روزہ کے ٹوٹنے کا سبب بتایا ہے چاہے حاجم ہو یا محجوم جیسا کہ ابن حزم وغیرہ نے کہا ہے۔
[2] اس میں اختلاف ہے بخاری نے روزہ کو بھی ثابت کیا ہے لیکن احرام سے الگ کر کے جیسا کہ اس کی تحقیق پیچھے گزر چکی ہے۔