کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 335
استدلال کرتے ہیں جو ’’ الصحیح ‘‘میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں روزے سے تھے۔[1]
احمد وغیرہ نے اس اضافہ ’’وھو صائم‘‘ پر اعتراض کیا ہے اور کہتے ہیں کہ ثابت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور حالت احرام میں تھے۔ احمد کہتے ہیں ، یحییٰ بن سعید نے کہا : شعبہ کہتے ہیں حکم نے صائم کے لیے حجامت کے سلسلے میں مقسم کی حدیث نہیں سنی۔ یعنی شعبہ کی حدیث جو عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور وہ روزے سے حالت احرام میں تھے۔[2]
[1] یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیحین کی کسی کتاب میں نہیں ہے جیسا کہ مصنف خود آگے کہتے ہیں ۔بلکہ بخاری کے ہاں ان الفاظ کے ساتھ ہے: پچھنا لگوایا اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور روزے سے تھے۔ اس کو بطریق وہیب عن ایوب عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کی ہے پھر اسے بطریق عبد الوارث روایت ہے وہ کہتے ہیں ہمیں ایوب نے بتایالیکن اس میں حدیث کا پہلا آدھا حصہ نہیں ہے اور ترمذی نے دونوں الفاظ کے ساتھ ان الفاظ میں روایت کی ہے جسے مؤلف نے بخاری کی طرف منسوب کیا ہے۔ دونوں روایتوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لیے کہ ترمذی کی روایت بتاتی ہے کہ پچھنا ایک ہی دن بحالت صیام و احرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لگوایا اور یہ مشکل ہے اس لیے کہ نبی نے احرام کی جہت کی طرف صرف غزوہ فتح مکہ میں سفر کیا ہے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صو م کی حالت میں نہیں تھے، جیسا کہ’’ التلخیص‘‘ میں ہے اور بخاری کی روایت میں اس طرح کا کوئی اشکال نہیں ہے۔بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو حالات کے بارے میں خبر دے دی گئی ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے سے الگ اور مستقل ہے۔ اسی لیے حافظ کہتے ہیں کہ ترمذی کی روایت سے بعض راویوں کو وہم ہو گیا ہے اور جو صحیح بخاری کی روایت ہے وہ کہتے ہیں : اس حدیث کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ ان میں سے ہر ایک کا ایک مستقل حالت میں صدور ہوا ہے اور اس میں ہر کوئی دشواری بھی نہیں ہے اور اس کو تقویت اس سے بھی ملتی ہے کہ اکثر احادیث نے الگ الگ بیان کیا ہے یعنی ہر قضیہ دوسرے سے الگ ہے۔
[2] ان الفاظ کے ساتھ احمد نے روایت کی ہے لیکن اس میں (ا:۴۴۲،۲۸۶،۳۴۴) محرم نہیں ہے۔ یہ شعبہ سے متعدد طرق سے روایت ہے اور طحاوی نے بطریق ابن ابی لیلیٰ بواسطہ حکم روایت کی ہے اور اس میں محرم کا اضافہ ہے اور ابن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں ۔اس طرح انہوں نے ابوداؤد نے، ابن ماجہ، احمد نے اور بیہقی نے یزید بن ابی زیاد بواسطہ مقسم متعدد طریق سے روایت کی ہے اور اس میں یزید سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس لفظ کے ساتھ حدیث صحیح نہیں ہے ۔