کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 331
اور مؤثر ہے اس لیے کہ یہ نفس کے ارادہ کو شہوات کی طرف بڑھاتا ہے اور عبادات سے اس کی دلچسپی کو بہت کم کر دیتا ہے بلکہ جماع کرنے والے پر ظہار کا کفارہ واجب ہے اور اس پر غلام کی آزادی یا جو سنت اور اجماع سے اس کا قائم مقام ثابت ہے اس کی ادائیگی ضروری ہے۔ اس لیے کہ یہ شنیع ترین حرکت ہے اور اس کے داعی و محرکات بہت طاقتور ہوتے ہیں اور اس سے فساد بھی بہت زیادہ پھیلتا ہے۔ جماع کو حرام کرنے میں یہ سب سے بڑی حکمت ہے۔
رہی یہ بات کہ یہ بدن کو خالی کر کے کمزور کر دیتا ہے تو یہ دوسری حکمت ہے۔ ان دونوں میں اس کی حیثیت کھانے اور حیض کی ہو گئی اور اس بارے میں جماع بہت زیادہ اثر کن ہے کیوں کہ کھانے اور حیض سے کہیں زیادہ یہ روزے کو فاسد کر دیتا ہے۔
ہم یہ حیض کی حکمت اور قیاس کے مطابق اس کے جریان پر گفتگو کرتے ہیں ۔
ہم کہتے ہیں : شریعت نے ہر چیز میں عدل ملحوظ رکھا ہے۔ اور عبادات میں غلو کرنا وہ ظلم ہے جس سے شارع نے روکا ہے اور اس نے عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کاحکم دیا ہے اسی لیے جلد افطار کرنے [1] اور دیر سے سحری کھانے کا اس نے حکم دیا ہے [2] اور مسلسل روزہ سے روکا ہے۔[3]
اور فرمایا: افضل روزہ یا عادلانہ روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔ [4] وہ ایک روزہ رکھتے تھے اور ایک روز ناغہ کرتے تھے اور جب جنگ میں مڈبھیڑ ہوتی تو فرار اختیار نہیں کرتے تھے۔
[1] شیخین اور دوسرے لوگوں نے حدیث سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی تخریج کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ خیریت سے رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ اور احمد (۵:۱۷۲۱۴۷) نے حدیث ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے اور اضافہ بھی کیا ہے کہ ’’اور سحری میں تاخیر کرتے رہیں گے‘‘ حافظ نے الفتح میں اس پر سکوت اختیار کیا ہے اس کے رجال میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں ۔
[2] ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہم انبیاء کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ جلد افطار کریں ،سحری دیر سے کھائیں اور نماز میں دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھیں ۔
طبرانی نے المعجم الکبیر میں اس کی تخریج کی ہے اور ان سے ضیاء المقدسی نے المختارہ میں کی ہے اور اسی طرح ابن حبان نے اپنی صحیح میں عمرو بن الحارث رضی اللہ عنہ کے طریق سے کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے عطاء بن ابی رباح کو یہ کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا۔ یہ صحیح سند ہے۔ اس کی تخریج دارقطنی اور طیالسی نے اور بیہقی نے بطریق طلحہ عمرو بواسطہ عطا کی ہے اورطلحہ ضعیف ہیں ۔
[3] شیخین نے اپنی اپنی صحیح میں حدیث عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اس کی تخریج کی ہے۔
[4] شیخین اور دوسرے لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیہم روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ تو پیہم روزہ رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ میں کھلایا اور پلایا جاتا ہوں ۔شیخین نے اس کی تخریج حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور اس میں ہے ’’میں رات گزارتا ہوں ۔مجھے میرا رب کھلاتا ہے اورپلاتا ہے۔‘‘