کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 330
ہے۔ اس لیے کہ نص اور اجماع سے روزہ توڑ دینے والی چیزیں جب اختیاری (جیسے کھانا پینا اور جماع کرنا) اور غیر اختیاری (جیسے حیض کا خون) میں تقسیم ہو گئیں تو اسی طرح ان کی علّتیں بھی تقسیم ہو جاتی ہیں ۔ پس ہم کہتے ہیں : رہا جماع، تو یہ اس وجہ سے حرام ہے کہ یہ منی کے انزال کا سبب ہے جو استقاء ۃ ( جان بوجھ کر قے کر دینا)، حیض اور پچھنا لگوانا کے برابر ہے جیسا کہ ان نشاء اللہ ہم اس کی وضاحت کریں گے۔ یہ ایک طرح کا خالی کرنا ہے نہ کہ کھانے پینے کی طرح بھرنا، اور دوسری جہت سے یہ ایک شہوت ہے اس لیے کھانے پینے کے برابر ہے۔ حدیث قدسی ہے: ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا۔ وہ اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو میری خاطر چھوڑتا ہے ۔‘‘[1] اللہ کی خاطر اپنی مرغوب چیزوں کو چھوڑنا ہی محبوب و مقصود عبادت ہے جس پر ثواب ملتا ہے ۔ جیسے محرمِ کو اپنے معمولات لباس، خوشبو اور بدن کی دوسری لذتیں چھوڑنے پر اجر ملتا ہے۔ اور بدن کی سب سے بڑی لذت ہے اورنفس کا سرور اور اس کا انبساط ہے۔ شہوت کو اور خون اور بدن کو کھانے کے مقابلہ میں کہیں بڑھ کر تحریک کرتا ہے۔ چونکہ شیطان ابن آدم کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے اور غذا اس خون کو بڑھاتی ہے جو شیطان کی کار گاہ اور جریان گاہ ہے اس لیے جب وہ کھاتا پیتا ہے تو اس کا نفس شہوتوں کی طرف لپکتا ہے اور عبادات سے محبت اور اس سے متعلق اس کے ارادے کمزور پڑ جاتے ہیں اور یہ مفہوم جماع کے بارے میں کافی واضح
[1] شیخین اور دوسرے لوگوں نے حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی تخریج کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابن آدم کا ہرعمل بڑھا دیا جاتا ہے۔ نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے، مگرروزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔ وہ اپنی شہوات اور اپنا کھانا میری خاطر چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے خوشی کے دو مواقع ہیں ۔ ایک خوشی افطار کے وقت ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہو گی اور روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے زیادہ اللہ کو پسند ہے۔بخاری نے حدیث کے آغاز میں اتنا اور اضافہ کیا ہے ’’روزہ ڈھال ہے۔ فحش گوئی نہ کرے، جھگڑے نہیں اور اگر کوئی اس سے جھگڑے یا اسے گالی دے تو کہہ دے میں روزے سے ہوں ، میں روزے سے ہوں ۔‘‘