کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 326
مامومہ اور جائفہ کے علاج میں جو دوا معدہ تک جاتی ہے وہ اس غذا کے مشابہ نہیں ہوتی جو مریض کے پیٹ میں جاتی ہے۔ [1] اللہ سبحانہ و تعالیٰ کہتا ہے:
﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ﴾ (البقرۃ: ۱۸۳)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔‘‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
((اَلصَّومُ جُنَّۃٌ))
’’روزہ ڈھال ہے۔‘‘[2]
دوسری حدیث ہے:’’ شیطان ابن آدم کے خون کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے تو بھوک اور روزے سے اس کے راستوں کو تنگ کر دو۔‘‘[3]
روزہ دار کو کھانے اور پینے سے روک دیا گیا اس لیے کہ یہ چیزیں قوت کا باعث ہیں اس لیے کھانا پینا بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے بہت زیادہ خون پیدا ہوتا ہے جس میں شیطان
[1] جائفہ: زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے۔مامومہ: سر میں زخم کاری جو دماغ تک پہنچ جائے۔
[2] نسائی نے اس کی مرفوع روایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور احمد نے حدیث قدسی میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور اسی طرح شیخین نے حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہے۔
[3] یہ حدیث صحیح ہے۔ صحیحین اور دوسری کتابوں میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے واسطے سے اس کی تخریج کی گئی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ نہیں ہے ’’فَضَیِّقُوْا الخ‘‘ اور احادیث کی مطبوعہ کتابوں یا مخطوطات میں اس کی اصل کا مجھے پتہ نہیں ۔ البتہ غزالی نے اپنی کتاب الاحیاء میں (۱:۷۰۳۲۸) دو جگہوں پر حدیث میں اس کا ذکر کیا ہے اور اس کی تخریج کرنے والے حافظ عراقی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ اس طرح کی چیز مؤلف کی نگاہ سے اوجھل رہی لیکن اس اضافہ کے بغیر ہی انہوں نے اس حدیث کا متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے۔شاید کسی نرے جاہل نقل کرنے والے شخص کی طرف سے یہ اضافہ درج ہو گیا ہے۔اس کے باوجود رشید رضا رحمہ اللہ پر اس کا حال مخفی رہا۔ انہوں نے اس رسالہ کی تعلیق میں اس پر کوئی نوٹ نہیں چڑھایا۔