کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 325
سے روزہ ٹوٹنے کو ثابت کر دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے والے کو بہت زیادہ ناک میں پانی ڈالنے سے منع کر دیا ہے جب وہ روزے سے ہو، اور استشناق ناک میں پانی ڈالنا پر ان کا قیاس ان کی مضبوط ترین دلیل ہے، جس کا ذکر آچکا ہے،حالانکہ یہ کمزور قیاس ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو شخص ناک کے دونوں سوراخوں سے پانی کھینچے گا، پانی اس کے حلق اور پیٹ تک جائے گا اور اس سے وہ مقصد حاصل ہو جائے گا جو منہ سے پینے سے حاصل ہوتا ہے اور پانی سے اس کے بدن کو تقویت ملے گی، اس کی پیاس بجھے گی اور اس کے معدہ میں کھانا ہضم ہو گا جس طرح پانی پینے سے ہضم ہوتا ہے۔ اگر استشناق کے سلسلہ میں نص موجود نہ ہوتی توعقل سے یہ بات معلوم ہو جاتی کہ یہ بھی پینے سے ہی تعلق رکھتا ہے اور ان میں اس کے سوا اور کوئی فرق نہیں ہے کہ ایک میں منہ سے پانی جاتا ہے اور دوسرے میں ناک سے اور یہ غیر معتبر ہے،بلکہ منہ تک پانی کا چلا جانا روزہ کے لیے ناقص نہیں ہے، اس لیے کہ اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا البتہ روزہ ٹوٹنے کا یہ راستہ ہے لیکن سرمہ،حقنہ، جائفہ، اور مامومہ کے علاج وغیرہ میں یہ بات نہیں ہے اس لیے کہ سرمہ سے قطعی طور پر یہ معلوم ہے کہ غذائیت نہیں ملتی، نہ کوئی سرمہ اپنے پیٹ، ناک یا منہ میں داخل کرتا ہے، یہی معاملہ حقنہ کا ہے، اس سے کسی صورت میں بھی غذائیت حاصل نہیں ہوتی،بلکہ بدن میں جو کچھ ہوتا ہے اسے خالی کر دیتا ہے۔ جیسے وہ کوئی مسہل دوا سونگھ لے یا اتنا خوف زدہ ہو جائے کہ اس کا پیٹ چلنے لگے۔ حقنہ معدہ تک نہیں پہنچتا [1] اور
[1] المصباح میں ہے: جب مریض کے مخرج سے اس کے پیٹ میں دوا پہنچائی جائے تو کہیں گے: حَقَنْتُ الْمَرِیْض اور اسم حقنہ ہے اور اس سے احتقان آتا ہے جیسے فرقہ اسم ہے افتراق کا۔ پھر ہر اس دوا پر اس کا اطلاق ہونے لگا جو علاج کے لیے استعمال کی جائے۔ جمع حُقَدٌ ہے، جیسے غُرَفَۃٌ کی جمع غُرُفٌ آتی ہے۔ یہی وہ حقنہ ہے جس کے بارے میں شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور ان کا یہ قول برحق ہے لیکن اس زمانے میں ایک اور حقنہ ہے اور اس میں بعض غذائی مواد آنتوں تک پہنچایا جاتا ہے جس سے مریض کو تقویت دینا مقصود ہوتا ہے اور آنت معدہ کی طرح ہضم کرنے والا آلہ ہے تو حقنہ کی یہ قسم روزہ کو توڑ دے گی اور اسی مریض کے لیے جائز ہے جس کے لیے روزہ توڑ دینا مباح ہو۔ (رشید رضا)