کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 322
میں نے احمد رحمہ اللہ کی تحریروں میں اس سلسلے میں کوئی نہ اجازت پائی نہ رکاوٹ،حالانکہ عذاب کی جگہوں پر نماز پڑھنے کو وہ مکروہ کہتے ہیں ۔ اس سے یہ بات ان کے بیٹے عبداللہ نے نقل کی ہے۔ اسی سلسلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سند حدیث کی وجہ سے جسے ابواؤدنے روایت کی ہے [1] انہوں نے کھجوروں کے جھنڈ، اونٹوں کے باڑے اور حمام کو ممنوع کہا ہے۔ اور ان تینوں کا تذکرہ خرقی وغیرہ نے بھی کیا ہے۔ جو لوگ اس کے قائل ہیں وہ کبھی اس کا حکم نص کے مآخذ پر قیاس کے ذریعہ سے واضح کرتے ہیں تو کبھی حدیث سے ثابت کرتے ہیں ، اور جنہوں نے فرق کیا ہے وہ حدیث میں کلام کرتے اور فرق بیان کرنے کے ضرورت مند ہیں اور منع بھی کیاگیا ہے۔ کبھی یہ منع مکروہ رہا ہے اور کبھی حرام رہا ہے۔ وہ احکام جن کی عام طور سے ضرورت پیش آتی رہتی ہے جب ان کے سلسلے میں ناگزیر ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عمومی وضاحت کریں اور امت اسے اخذ کر لے تو یہ معلوم ہے کہ سرمہ لگانا اور اس نوعیت کی دوسری چیزیں عموم بلویٰ کی فہرست میں آتی ہیں اور عام طورپر ان سے دوچار ہونا پڑتا ہے جیسے تیل،غسل، خوشبو، دھونی وغیرہ کی عام طورسے ضرورت پڑتی ہے۔
[1] انہوں نے کتاب الصلوٰۃ کے آغاز میں ابو صالح غفاری کے طریق سے اس کی روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزرے۔موذن نے عصر کی اذان کی اجازت چاہی۔ جب آپ وہاں سے نکل آئے تب آپ نے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا اور نمازکھڑی ہوئی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: ’’میرے حبیب نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور مجھے اس بات سے روکا تھا کہ بابل میں نمازپڑھوں اس لیے کہ اس پر اللہ کی لعنت آچکی ہے۔‘‘ اور بیہقی(۲:۴۵۱) نے ابوداؤد کے طریق سے اس کی روایت کی ہے اور اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اور حافظ ابن حجر اور دوسرے لوگوں نے اس کی صراحت کی ہے جیسا کہ میں نے ضعیف سنن ابی داؤد (۷۶) میں اس کا ذکر کیا ہے۔