کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 321
جگہوں کے مقابلے میں بلکہ روحیں خبیث جسموں کو محبوب رکھتی ہیں ۔ اسی لیے کھجوروں کے جھنڈ شیطانوں کی قیام گاہ تھے جہاں وہ قیام کرتے تھے اور حمام اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہوں اور نجس سرزمین کے مقابلے میں یہ جھنڈ اس بات کے زیادہ سزاوار تھے کہ ان میں نماز پڑھنے سے روک دیا جائے۔ کھجوروں کے جھنڈ کے سلسلہ میں خاص نص وارد نہیں ہے اس لیے کہ مسلمانوں کے نزدیک اس کا حکم بالکل واضح تھا، اس سلسلے میں کسی بیان کی ضرورت نہ تھی اس لیے کوئی مسلمان ان جھنڈوں میں بیٹھتا تھا نہ ان میں نماز پڑھتا تھا بلکہ گھروں میں پاخانہ بنوانے سے پہلے وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے خشکی یا کھلے میدان کا رخ کیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے سنا کہ حمام میں یا اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے سے روک دیاگیا ہے تو انہوں نے سمجھ لیا کہ باغات کے جھنڈوں میں نماز نہ پڑھنا اس سے کہیں زیادہ مناسب اور سزاوار ہے،حالانکہ وہ حدیث بھی روایت کی جاتی ہے جس میں قبرستان، بوچڑ خانہ، گھور، باغات کے جھنڈ، راستے کا اوپری حصہ اور اونٹ کی باڑ میں اور بیت اللہ شریف کی چھت پر نماز پڑھنے سے روک دیا گیاہے۔ فقہائے حدیث کا اس میں باہم اختلاف ہے۔ امام احمد کے ساتھی اس میں دو قول رکھتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ لوگ ان جگہوں کو ممنوع سمجھتے ہیں ،اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔[1]
[1] میں کہتا ہوں یہی قول صحیح ہے، اس لیے کہ حدیث صحیح نہیں ہے، جیسا کہ میں نے اس کی وضاحت ارواء الغلیل (۲۸۱) میں کی ہے لیکن اس کے دوجملے صحیح ہیں : اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکنا۔ اس کی تخریج دو حدیثوں سے پہلے ہو چکی ہے اور مقبرہ میں نماز کی ممانعت۔ اسی سلسلے میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس کے الفاظ ہیں ’’ پوری سر زمین مسجد ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔‘‘ اسے تمام اصحاب سنن نے نسائی کو چھوڑ کر اور حاکم اور احمدنے روایت کی ہے۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔ایک جماعت نے اس کو صحیح کہا ہے۔ انہی میں مؤلف بھی ہیں جیسا کہ میں نے ’’ارواء الغلیل‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔