کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 320
بکریوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو وضو کر لو اور چاہو تو نہ کرو۔
اور فرمایا ہے: اونٹ جنات سے پیدا کیے گئے ہیں [1] اور ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان رہتا ہے۔[2]
اور فرمایا: فخر اور گھمنڈ اونٹوں والے کاشتکاروں میں ہوتا ہے اور سکینت بکری والوں میں ہوتی ہے۔ [3]
چونکہ اونٹ کے اندر وہ شیطنت ہوتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو نا پسند ہے اس لیے اس کا گوشت کھانے کے بعد وضو کا حکم دیا ہے۔ یہ چیز اس شیطنت کو بجھا دیتی ہے اور اس کی باڑ میں نماز ادا کرنے سے روک دیا اس لیے کہ وہ شیطان کا ٹھکانہ ہے۔ جس طرح حمام میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے کیونکہ وہ شیطانوں کی قیام گاہ ہے۔ اس لیے کہ خبیث روحوں کی قیام گاہ اس بات کی سزاوار ہے کہ اس میں نماز نہ پڑھی جائے۔ خبیث جسموں کی
[1] امام احمد (۴:۸۵،۸۶،۵:۵۴،۵۵،۵۶) نے، ابن ماجہ (۷۶۹) نے اور بیہقی (۲:۴۴۹) نے بطریق حسن بواسطہ عبداللہ بن مغفل المزنی رضی اللہ عنہ تخریج کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بکریوں کی باڑ میں نماز پڑھ لو اور اونٹ کی باڑ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیطان سے پیدا کیے گئے ہیں ۔‘‘ اور احمد کی روایت میں ہے: ’’کیونکہ وہ جنات سے بنائے گئے ہیں ۔ کیا تم ان کی آنکھوں کو اوربھڑکنے کو نہیں دیکھتے جب وہ بد کتے ہیں ؟ ’’اس سند کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔ اس لیے اس کی اسناد کو شوکانی نے ’’ نیل الاوطار ‘‘ (۲:۲۳) میں صحیح کہا ہے لیکن حسن بصری مدلس ہیں اور انہوں نے اس روایت کو عن فلاں عن فلاں کہہ کر بیان کیا ہے۔ اگر انہوں نے عبد اللہ سے سنا ہے تو صحیح ہے۔
[2] ان الفاظ کے ساتھ حاکم (۱:۴۴۲) نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو مرفوع قرار دیا ہے۔ اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: ’’تو انہیں سواری کے کام میں لاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں سواری بنایا ہے۔‘‘ اس کی سند حسن ہے اور حاکم نے مسلم کی شرط پر اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ پھر حاکم نے اور دارمی(۲:۲۸۶) نے حمزہ بن عمرو اسلمی کی حدیث مرفوع سے ان الفاظ میں تخریج کی ہے ’’ہر اونٹ کے اوپر شیطان رہتا ہے تو جب تم ان پر سواری کرو تو اللہ کا نام لے لیا کرو تاکہ تمہاری کوئی ضرورت باقی نہ رہ جائے۔‘‘ اور حاکم نے کہا ہے ’’مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔‘‘ اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے اور جیسا کہ ان دونوں نے کہا ہے اور اس کی تخریج انہوں نے اور احمد نے (۴:۴۲۱) ابو لاس خزاعی کی حدیث سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور حاکم نے کہا ہے’’ مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ ‘‘اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
[3] اس کی تخریج شیخین اور احمد نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے کی ہے۔