کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 319
کرے گا تو پانی سے آگ بجھ جائے گی۔ نصوص میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو یہ بتائے کہ یہ حدیث منسوخ ہے بلکہ نصوص یہ بتاتے ہیں کہ وضو واجب نہیں ہے۔ وضو کا مستحب ہونا ان لوگوں کے مقابلہ میں معتدل رائے ہے جو اسے واجب مانتے ہیں ، اس حدیث ہی کو منسوخ کر دیتے ہیں ، اور یہ مسلک امام احمد نے اقوال میں سے ایک قول ہے۔ اس طریقے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جانور (جن کا گوشت کھایا جاتا ہے) کا پیشاب اور ان کی لید نجس نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان چیزوں سے عام طور سے سابقہ پیش آتا رہتا ہے۔ عرب قوم اونٹوں اور بھیڑوں کی قوم تھی۔ وہ جانوروں کے مکانات میں بیٹھتے اور نماز ادا کرتے تھے اور اس میں مینگنیاں بھری ہوتی تھی۔ اگر یہ مینگنیاں اور پیشاب پاخانے کے حکم میں ہوتے تو نجس قرار پاتے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بچنے کاحکم دیتے اور تاکید کرتے کہ ان کے بد ن اور کپڑے ان سے لت پت نہ ہوں اور نہ ان میں نماز ادا کریں ۔ حالانکہ احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ بکریوں کے باڑے [1] میں نماز ادا کرتے تھے اور بکریوں کی بیٹھنے کی جگہوں پر نماز ادا کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں پر نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ [2] اس سے معلوم ہوا کہ اونٹ کی مینگنیوں کے نجس ہونے کی وجہ سے وضو کرنے کا حکم نہیں دیا ہے بلکہ یہ حکم ویسے ہی ہے جیسے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم ہے۔
[1] شیخین اور دوسرے لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔ وہ کہتے ہیں : ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ ‘‘ اور ترمذی (۲:۱۸۲) نے کہا ہے کہ یہ حدیث ’’حسن صحیح ‘‘ ہے۔ [2] اس سلسلے میں متعدد صحابہ سے احادیث مروی ہیں ۔ان میں ابو ہریرہ، جابر بن سمرہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم ہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج ترمذی نے کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ الفاظ یہ ہیں ’’ بکریوں کے بیٹھنے کی جگہوں پر نماز پڑھو اور اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہوں پر نماز نہ پڑھو۔‘‘ رہی حدیث جابر رضی اللہ عنہ تو اس کی تخریج مسلم اور احمد نے کی ہے اور حدیث براء رضی اللہ عنہ کی تخریج ابوداؤد و احمد نے صحیح سند کے ساتھ کی ہے۔