کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 316
سے کپڑے دھولیے جائیں ‘‘ تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں ہے نہ معتمد حدیث کی کتابوں میں درج ہے نہ علمائے حدیث میں سے کسی نے ایسی سند کے ساتھ اس کی روایت کی ہے جس سے استدلال کیا جا سکے۔ [1] اور عمار سے روایت کی گئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے ۔ کہ یہ ان کا قول ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے منی لگنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے دھوئے [2] اور انہیں خوب زور سے مل دیا۔[3]
[1] اس کی روایت ابویعلی نے کی ہے اور ان سے ابن جوزی نے ’’ التحقیق ‘‘( ۱:۶۳۔۶۴) میں روایت کی ہے عن ثابت بن حماد حدثنا علی بن زید عن سعید بن المسیب عن عمار بن یاسر مرفوعا بہ۔ البتہ اس روایت میں ’’مذی‘‘ کی جگہ ’’القی‘‘ ہے۔ اسی طرح طرانی نے ’’ الاوسط ‘‘(۱۱:۱) میں ، ابن عدی نے ’’ الکامل‘‘ (ق:۱۴۷:۱) میں ، دارقطنی (۴۷) نے اور بیہقی (۱:۱۴) نے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور علی بن زید سے استدلال نہیں کیا جا سکتا اور ثابت بن حماد پر احادیث وضع کرنے کا اتہام ہے۔‘‘ اور دار قطنی نے کہا ہے کہ: ’’اسے ثابت بن حماد کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور وہ حد درجہ ضعیف ہیں ۔‘‘ اور عبد الحق الاشبیلی نے’’ الاحکام الکبریٰ‘‘ (ق ۲۷:۱) میں کہا ہے: ’’ثابت بن حماد کی احادیث منکر اور بدلی ہوئی ہیں ۔‘‘ ابن عراقی نے ’’تنزیہ الشریعۃ‘‘ (۲:۷۳) میں اپنے اصل ’’ ذیل الأحادیث الموضوعۃ‘‘ للسیوطی (۹۹) کی اتباع میں ہے۔ اور ابن تیمیہ نے کہا ہے جسے ان سے ابن الہادی نے ’’ التنقیح ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ ’’ یہ حدیث اہل علم کے نزدیک جھوٹ ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں :تحقیق ابن الجوزی کے ساتھ التنقیح کے مطبوعہ نسخہ میں مؤلف سے یہ منقول عبارت موجود نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [2] صحیحین اور دوسری کتابوں میں یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یوں مروی ہے، وہ کہتی ہیں : ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھو دیا کرتی تھی پھرآپ نماز کے لیے نکلتے تھے اور تھوڑے سے پانی کا اثر آپ کے کپڑے پر باقی رہتا تھا۔‘‘ دارقطنی (۴۶) نے اس کی روایت کی ہے اور یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ ’’ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلتے اور میں دھلنے کے اثر سے دھبہ کو دیکھتی رہتی۔‘‘ اور کہا کہ یہ صحیح ہے۔ [3] ابوداؤد (۳۷۱) نے ہمام بن حارث کے واسطہ سے تخریج کی ہے کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے۔چنانچہ احتلام ہو گیا اور کپڑے سے جنابت کے نشانات کو دھوتے ہوئے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک باندی نے دیکھ لیا۔ اس نے جا کر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے فرمایا’’ تم مجھے دیکھ چکی ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے منی کو رگڑتی ہوں ۔‘‘ اس کی سند صحیح ہے اور ترمذی نے اس کی تخریج کی ہے اور اسے ’’ حسن صحیح ‘‘ کہا ہے اور یہ حدیث مسلم (۱:۱۲۴،۱۲۵،۱۲۲) میں متعدد طرق سے مروی ہے۔ دار قطنی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسرے طریق سے روایت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی رگڑ دیا کرتی تھی اگر وہ خشک ہوتا اور اسے دھوتی اگر تر ہوتا۔‘‘ اور اس کی سند صحیح ہے۔ احمد نے (۶:۲۴۳) جید سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اذخر کے عرق سے اپنے کپڑے سے منی اڑا دیا کرتے تھے پھر اس میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اگرخشک ہوتا تو اسے رگڑدیا کرتے، پھر اسی میں نماز پڑھ لیتے۔‘‘