کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 313
روایت نہیں کی، نہ مسند احمد میں نہ دوسری معتمد کتابوں میں ۔
ابوداؤد کہتے ہیں حدثنا النفیلی‘ حدثنا علی بن ثابت، قال حدثنی عبدالرحمن بن النعمان[1] بن معبد بن ھوذۃ عن ابیہ عن جدۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے وقت اثمد ( ایک قسم کا پتھر جس سے سرمہ تیار کیا جاتا ہے ) استعمال کرنے کا حکم دیا کہ یہ راحت بخش ہے اور فرمایا’’ روزہ دار کو اس سے بچنا چاہیے۔‘‘ا ابوداؤد کہتے ہیں : مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا: یہ حدیث منکر ہے۔
منذری کہتے ہیں : اور عبد الرحمن ضعیف ہیں ۔اور ابو حاتم رازی کہتے ہیں : وہ سچے ہیں لیکن کون ان کے والداور ان کی عدالت اور ان کے حافظے کے متعلق جانتا ہے ؟ یہی حال معبد کا ہے۔ یہ ایک دوسری ضعیف حدیث سے ٹکرا رہی ہے جس روایت نے اس کی سند کے ساتھ حسن بن مالک سے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ہمیں ابو علی بن واصل نے بتایا، وہ کہتے ہیں ہمیں حسن بن عطیہ نے بتایا، انہیں ابو عاتکہ نے بتایا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے سوال کیا: میری دونوں آنکھوں میں تکلیف ہے، کیا میں روزہ ہوتے ہوئے سرمہ لگا سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں ۔‘‘ ترمذی کہتے ہیں اس کی سند قوی نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کچھ بھی منقول نہیں ہے اور ابو عاتکہ ضعیف ہیں ۔ یہ ترمذی کا قول ہے۔ اس شخص کے سلسلے میں بخاری کہتے ہیں کہ یہ منکر حدیث ہے، اور نسائی کہتے ہیں کہ: ثقہ نہیں ہے، اور رازی کہتے ہیں کہ اس سے حدیثیں غائب ہو جاتی ہیں ۔[2]
[1] یہ حدیث ضعیف ہے اور اس کی علت نعمان بن معبد ہیں جیسا کہ اس کی طرف منذری نے اشارہ کیا ہے اور وہ ان کے بقول ’’ غیر معروف‘‘ ہیں اور تقریب میں انہیں ’’مجہول الحال‘‘ کہا گیا ہے۔
[2] میں کہتا ہوں : اس کا نام طریف بن سلیمان یا سلیمان بن طریف ہے۔ حافظ ابن حجر اس کے بارے میں کہتے ہیں ’’ضعیف ہے اور سلیمان نے اس میں مبالغہ کیا ہے ۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ امام بخاری ان سے بھی آگے ہیں کیونکہ وہ اس شخص کو منکر حدیث کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے روایت کرنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ ذہبی کی ’’ المیزان‘‘ اور حافظ ابن کثیر کی ’’ اختصار علوم الحدیث‘‘ وغیرہ میں ہے۔
یہ حدیث ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جس میں انس رضی اللہ عنہ کا فعل ہے کہ وہ روزہ کی حالت میں سرمہ لگاتے تھے۔ ابوداؤد نے سند حسن کے ساتھ اس کی تخریج کی ہے اور حافظ’’ تلخیص ‘‘میں کہتے ہیں کہ ’’اس میں حرج نہیں کہ اسے قبول کر لیا جائے۔‘‘ (ص: ۱۸۹)