کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 303
اگر قے کرنے والا معذور ہو تواس کا یہ فعل جائز ہے اور اس کا شمار ان مریضوں میں ہوگیا جو قضاکرتے ہیں اور کبائر کا ارتکاب کرنے والوں میں اس کا نام نہیں آئے گا۔ جو بغیر کسی عذر کے روزہ توڑ دیتے ہیں ۔رہاشب باشی کے لیے قضا کا حکم تو یہ حدیث ضعیف ہے اوراسے بہتیرے حفاظ حدیث نے ضعیف کہا ہے۔ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی احادیث ہیں اور متعدد سلسلوں کی ہیں لیکن کسی میں قضا کا حکم نہیں ہے۔ [1] اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
[1] یہ قابل غور ہے اس لیے کہ متعدد لوگوں نے اس کا ذکر کیا ہے اور اصل حدیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں زہری کے طرق سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حمید بن عبد الرحمن نے بتایا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا:نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ ٹھہرار ہا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور کی ایک ٹوکری پیش کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پوچھنے والا کہاں گیا؟ اس نے کہا: میں ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس ٹوکری کو صدقہ کر دو۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ محتاج کون ہے؟بخدا ان دونوں پہاڑیوں کے بیچ میں کوئی گھرانہ میرے گھر سے زیادہ محتاج اور مفلس نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت نظر آگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ سیاق کلام بخاری کا ہے۔