کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 302
رہا وہ شخص جو منی نکالنے کی کوشش کرے اور انزال ہو جائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ احتلام کے لفظ کا اطلاق اس حالت پر ہوتا ہے جب سوتے میں منی گر جائے۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ قیاس تو یہ کہتا ہے کہ خارج ہونے والی کسی چیز سے روزہ نہیں ٹوٹنا چا ہیے اور جان بوجھ کر قے کرنے والے کا روزہ اس لیے ٹوٹ جاتا ہے کہ کچھ کھانے کے لوٹ جانے کا اندیشہ رہتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حائضہ عورت کا روزہ ٹوٹ جانا بھی خلاف قیاس ہے۔ ہم نے اصول میں تفصیل سے گفتگو کی ہے کہ شریعت میں کوئی ایسی چیز نہیں جو قیاس صحیح کے خلاف ہو۔ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ بغیر عذر کے جان بوجھ کر روزہ توڑ دینا کبائر میں شامل ہے اسی طرح جو شخص بغیر کسی عذر کے دن کی نماز رات تک ٹال دیتا ہے تو وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور وہ نمازیں قبول نہیں ہوتیں ، علماء کے نمایاں تر قول کے مطابق۔ جیسے کوئی شخص جمعہ چھوڑ دے اور رمی جمار فوت کر دے اور دوسری متعین عبادات کو نظر انداز کر دے تو ان سب کی قضا کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت بھی آتی ہے کہ رمضان میں جماع کر نے والے پر قضا واجب ہے؟ تو کہا جائے گا کہ قضا کا حکم اس لیے دیا جاتا ہے کہ انسان کسی عذر کی وجہ سے قے کرتا ہے جیسے مریض کو قے کے ذریعہ سے علاج کرنا پڑتا ہے یا انسان اس وقت قے کرتا ہے جب اسے شبہ ہو کہ اس نے کیا چیز کھا لی ہے جیسا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ [1] نے کہانت کی کمائی کو قے کر دیا تھا۔
[1] سید رشید رضا کہتے ہیں : بخاری نے حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کی ہے کہ ’’ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک غلام تھا جو کما کر لاتا تھا اور آپ اسے کھاتے تھے۔ ایک دن وہ کچھ لے آیا اور آپ نے اسے کھا لیا۔ تب غلام نے کہا: آپ جانتے ہیں وہ کیا چیز تھی؟ آپ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: دور جاہلیت میں میں نے کسی آدمی کے لیے کہانت کی تھی (اسی نے یہ دیاہے)۔ آپ نے اپنی انگلی منہ میں ڈالی اور قے کر دی۔‘‘ اور بیہقی (۴:۲۲۶) نے ابو مروان کے طریق سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں ہمیں بتایا ابراہیم بن سعدنے اور وہ کہتے ہیں مجھے بتایا لیث بن سعد نے زہری کے واسطے سے۔ سند وہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: اس کی جگہ تم ایک دن کا روزہ رکھو۔ اور بیہقی کہتے ہیں : اور اسی طرح ہے عن عبد العزیز الدراوردی عن ابراہیم ابن سعد اور ابراہیم بن سعدی نے زہرسے حدیث سنی ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کا ذکر نہیں کیا ہے، بس لیث بن سعد بواسطہ زہری اور ابواویس المدنی بواسطہ زہری ان الفاظ کا پتہ چلتا ہے۔ میں کہتا ہوں : ابو مروان کا نام محمد بن عثمان بن خالد اموی ہے اور وہ سچے ہیں لیکن غلطی کر جاتے ہیں لیکن دراوردی نے ان کی موافقت کی ہے جیسا کہ بیہقی نے ذکر کیا ہے۔ اس طرح وہ خطا سے محفوظ ہو گئے۔ اسی طرح ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں ابراہیم بن سعد کے واسطہ سے تخریج کی ہے جیسا کہ ’’ التخلیص ‘‘ میں ہے اور ابو اویس کی روایت کی تخریج دارقطنی (۲۵۱) اور بیہقی نے کی ہے اور ابو اویس کانام عبد اللہ بن عبد اللہ بن اویس ہے اور وہ سچے ہیں لیکن وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ان سے مسلم نے استدلال کیا ہے۔ ان کی موافقت عبدالجبار بن عمر الدئلی نے کی ہے اور وہ قوی نہیں ہیں جیسا کہ بیہقی نے کہا ہے۔ ان کی متابعت ہشام بن سعد نے بھی کی ہے۔ البتہ حمید بن عبدالرحمن کی جگہ ابو مسلمہ بن عبدالرحمن کا نام لیاہے۔ اس کی تخریج ابو داؤد (۲۳۹۳)، دار قطنی (۲۵۲) اور بیہقی (۴:۲۲۶۔۲۲۷) نے کی ہے اور ہشام کے اندر حافظہ کے اعتبار سے ضعف پایا جاتا ہے جس کا تذکرہ پیچھے آ چکا ہے۔ اور امام مالک رحمہ اللہ (ا:۲۹۷۔۲۹۹) کے یہاں سعد بن مسیب کی مرسل روایت اور نافع بن جبیر اور محمدبن کعب کی مرسل کی شہادت ملتی ہے۔آخر الذکر دونوں مرسل روایات کا تذکرہ حافظ نے الفتح (۴/۱۵۰) میں کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ ان تمام طرق کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اضافہ کی اصل ہے۔‘‘