کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 301
لیکن اس میں الفاظ یہ ہیں : ’’جب اسے قے آجائے‘‘ ((اذ ذرعۃ القیٔ)) [1] متعدد لوگوں نے زید بن اسلم سے اس کی مرسل روایت کی ہے۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں : حدیث زید بن اسلم کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اگر ا سے صحیح مان لیا جائے تو اس کامفہوم یہ ہو گا کہ جسے قے آجائے اس لیے کہ اسے احتلام سے ملا دیا ہے اور جس شخص کو بغیر اختیار کے احتلام ہو جائے جیسے سونے کی حالت میں ، تو یہ متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ رہی حجامت ( پچھنا لگوانا) کی حدیث تو یا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل حدیث کے لیے ناسخ ہو گی یا منسوخ۔ وہ حدیث یہ ہے کہ ’’ انہوں نے پچھنا لگوایا اور حالت احرام میں روزے سے تھے۔‘‘[2] اور اس میں قے کا لفظ استعمال ہوا ہے اگر اسے استقاء ۃ ( جان بوجھ کر قے کرنا) کے معنی میں لے لیں تو شاید وہ منسوخ بھی ہو جائے۔ اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ پچھنا لگوانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو روکا تھا وہ بعدکے دور کا ہے اور جب قولی اور عملی نصوص میں تضاد ہو جائے اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا اور دوسرے کو چھوڑنا پڑے تو قولی نص ہی کو ناسخ ماننا پڑے گا اور ان میں سے کسی کو ناسخ یا منسوخ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مثال دوسری روایات بھی ناسخ یامنسوخ ہو جائیں گی۔[3]
[1] میرے پاس جو اصول احادیث ہیں ان میں سے کسی میں بھی یہ اضافہ مجھے نہیں ملا۔ بیہقی نے ’’ المعرفہ‘‘ میں لکھا ہے جیسا کہ ’’ نصب الرأیۃ‘‘ (۲:۴۴۶) میں ہے: ’’اس حدیث کو محمول کیا جائے گا اس شخص پر جسے قے آجائے تا کہ دونوں قسم کی احادیث میں تطبیق ہو سکے۔ ‘‘ اگر یہ اضافہ حدیث زید بن اسلم کے کسی طریق میں ہوتا تو بیہقی ایسا کیوں کہتے ۔ واللہ اعلم۔ [2] حدیث کے یہ الفاظ بعض راویوں کے وہم کا نتیجہ ہیں ۔ صحیح الفاظ یہ ہیں ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور وہ حالت احرام میں تھے۔‘‘ جیسا کہ بخاری اور دوسرے محدثین نے روایت کیا ہے، جیسا کہ اس حدیث پر تبصرہ حاشیہ میں اس کا ذکر آئے گا جہاں مصنف نے اسے لفظ ’’ صحیح ‘‘ سے منسوب کیا ہے، اس رسالہ کے اختتام سے چند صفحات پہلے۔ [3] وَاَمَّا حدیث الحجامۃسے لے کر نسخ قرینۃ تک کی ساتوں سطریں اصل میں لکن ھذا فیہ اذا ذرعۃ القیٔ کے بعد تھیں لیکن ہم نے اسے یہاں منتقل کر دیا کہ یہی زیادہ مناسب تھا۔