کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 300
کی مخالف نہیں ہے، بلکہ اسے تقویت دیتی ہے [1] اور حدیث زید بن اسلم کے واسطے سے صحیح ہے۔
[1] میں کہتا ہوں یہ قابل غور ہے، اس لیے کہ عبدالرحمن بن زید حد درجہ ضعیف ہیں جیسا کہ ابھی اشارہ کیا جا چکاہے۔امام طحاوی کہتے ہیں :’’ ان کی حدیثیں علمائے حدیث کے نزدیک انتہا درجہ کی کمزور ہیں ۔‘‘ اور نصب الرایہ (۲:۴۴۷) کے مطابق ابن المدینی، ابن سعد، ابن بزار نے انہیں بہت ضعیف کہا ہے اس لیے جب موقع آتا ہے تو ان سے استدلال نہیں کیا جاتا اور یہاں انہیں صحیح سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ انہوں نے ثوری جیسے ثقہ حافظ کی مخالفت کی ہے۔ جس آدمی کے بارے میں لوگوں کو ابہام تھا اسے انہوں نے عطا کا نام دیا ہے اور اس نام پر ہشام بن سعد نے ان کی موافقت کی ہے۔لیکن صحابی کے نام کے سلسلے میں ا ن کی مخالفت کی ہے تو ثوری کہتے ہیں کہ زید بن اسلم کے واسطہ سے، پھر عطاء ابن یسار کے واسطہ سے، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے مرفوع حدیث ہے۔
دار قطنی (۲۳۹) نے اور ابن عدی نے ’’کامل‘‘ (ق۱۵۹:۲) میں اور ابو محمد مخلد نے الفوائد (ق۲۸۹:۱) میں اس کی تخریج کی ہے اور اسی طرح بزار نے دو طریقوں سے روایت کی ہے: عن أبی خالد الاحمر سلیمان بن حبان بن ہشام اور ابن عدی نے کہا ہے : ’’حدیث ہشام کے علاوہ مجھے اس اسناد کے بارے میں کوئی علم نہیں ۔‘‘ میں کہتا ہوں : اگرچہ اس کی تخریج مسلم نے کی ہے لیکن لوگوں نے ان کے حفظ کے سلسلے کلام کیا ہے اس لیے مخالفت کے وقت اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔اسی لیے حدیث کا ذکر کرنے کے بعد حافظ ابن حجر ’’التلخیص‘‘ ص (۱۹۰) میں کہتے ہیں : یہ معلول ہے یعنی ان کی طرف انگلی اٹھتی ہے اور حافظ ہیثمی نے ’’الجمع‘‘ (۳:۱۷۰) میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
بزار نے دو سندوں سے اس کی روایت کی ہے، ان میں سے ایک کو صحیح قرار دیا ہے اور اس کا ظاہر صحت ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اگر مخالفت نہ ہوتی تو صحیح تھی، لیکن اس حدیث کی شاہد حدیث ثوبان رضی اللہ عنہ ہے اور ان سے اس حدیث کے دو طرق ہیں :
۱۔عن یزید بن عیاض عن ابی علی الفدکی عن ابی قاسم عن ابی عبد الرحمن عنہ۔ طبرانی نے ’’الاوسط‘‘ (۱:۱۰۱۔۱۰۲) میں اس کی تخریج کی ہے اور کہا ہے کہ ’’ثوبان رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند کے ساتھ یہ مروی ہے۔
میں کہتا ہوں ، حافظ کہتے ہیں : ’’یہ کمزور سند ہے‘‘ اور میں کہتا ہوں کہ بہت ہی کمزور سند ہے اس لیے کہ ابن عیاض پرلے درجے کا جھوٹا آدمی ہے جیسا کہ امام مالک وغیرہ نے کہا ہے۔
۲۔عن ابی صالح عبد اللہ بن صالح عن اللیث عن خالد بن یزید عن سعید بن أبی ھلال عن ابن خصیفۃ۔ یزید بن عبداللہ بن خصیفہ کے طبقہ سے ہیں جس کی صحاح ستہ نے تخریج کی ہے۔ اگر وہ نہیں تو مجھے نہیں معلوم۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ یہ ابن جعدبہ کا بدلا ہوا نام ہے۔ اس لیے کہ اس کی تخریج ’’الرویانی‘‘ نے اپنی مسند (ج ۲۵:۱۳۴) میں عن ابی صالح بسندہ عن ابی ھلال عن ابی جعدبۃ اللیثی کی ہے اور ابن جعد وبہ وہی یزید بن عیاض ہے جو پہلے طریق میں ہے۔گھو م کر بات وہیں آئی کہ یہ حدیث پرلے درجے کے جھوٹے شخص سے مروی ہے اس لیے اس سے استشہاد نہیں کیا جا سکتا۔