کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 298
بتلائے بلکہ دار قطنی وغیرہ نے حمید بن انس سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور وضو نہیں کیا، اور پچھنے کی جگہ کو دھونے سے زیادہ اور کچھ نہ کیا۔ [1] اور ابن جوزی رحمہ اللہ نے ’’حجۃ المخالف ‘‘ میں اس کی روایت کی ہے اور اسے ضعیف نہیں کہا ہے۔ حالانکہ ان کی عادت یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے جرح کرتے ہیں ۔[2]
رہی وہ حدیث جو روایت کرتی ہے کہ ’’تین چیزیں روزہ نہیں توڑتی ہیں : قے، پچھنا
[1] اس کی تخریج دارقطنی (ص ۵۵،۵۷) نے صالح بن مقاتل کے طریق سے کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے بتایا ابی نے اور انہیں بتایا ابو ایوب سلیمان بن داؤد نے حمید کے واسطے سے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنالگوایا ،نماز پڑھی اوروضو نہیں کیا اور پچھنے کی جگہوں کو دھونے سے زیادہ اورکچھ نہ کیا۔‘‘
اور دارقطنی کے طریق سے بیہقی نے اس کی تخریج کی ہے (۱:۱۴۱) اور کہا ہے : اس کی سند میں ضعیف لوگ ہیں ۔
میں کہتا ہوں : اس سے ان کی مراد صالح اور ا ن کے باپ سلیمان ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے ’’ لسان المیزان‘‘ میں لکھا ہے اور دارقطنی کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے صالح کے بارے میں لکھا ہے کہ’’ وہ قوی نہیں ہیں اور ابن نافع کے شیوخ میں سے ہیں ۔‘‘ اور امام زیلعی نے ’’نصب الرایہ‘‘ (ا/۴۳) میں لکھا ہے کہ ’’دارقطنی کہتے ہیں : صالح بن مقاتل قوی نہیں ہیں اور ان کے باپ غیر معروف ہیں اورسلیمان بن داؤد مجہول ہیں ۔‘‘
حافظ ابن حجر نے ’’تلخیص الحبیر ‘‘(ص۴۱) میں کہا ہے کہ ’’اس سند میں صالح بن مقاتل ہیں اور وہ ضعیف ہیں اور ابن عربی نے دعویٰ کیا ہے کہ دارقطنی نے اسے صحیح کہا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ انہوں نے ’’ السنن ‘‘ میں اس کے بعد ہی کہاہے کہ صالح بن مقاتل قوی نہیں ہیں اور امام نووی نے ان کا تذکرہ ضعیف کی فصل میں کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : انہوں نے دارقطنی کے بارے میں جو لکھا ہے میں اسے’’ السنن ‘‘میں اشارہ کردہ دونوں جگہوں پر حدیث کے بعد نہ پا سکا۔ شاید انہوں نے کسی تیسری جگہ اس کا ذکر کیا ہو۔ واللہ اعلم
[2] میں کہتا ہوں : ابن جوزی کی یہ عادت معمول نہیں ہے اس لیے کہ بیشتر وہ حدیث کے کمزورہونے کے باوجود اس کے سلسلے میں خاموش رہتے ہیں خاص طور پر جب ان کے مسلک کی تائید میں ہو۔یہ حدیث ان کے مسلک کے خلاف ہے۔ حیرت ہے کہ اس حدیث کے کمزور ہونے اور اس کی بہت سی علّتیں ہونے کے باوجود اس پر خاموش رہے۔
اور اس سے زیادہ حیرت اس پر ہے کہ شیخ الاسلام کو ان کی خاموشی سے حدیث کی صحت کی غلط فہمی ہو گئی اور ان کی پیروی ان کے شاگرد علامہ محمد بن عبد الہادی نے کی ہے جنہوں نے اپنی کتاب’’ تنقیح التحقیق لابن الجوزی‘‘ میں ابن الجوزی کے سکوت پر ان کا ساتھ دیا ہے (۱/۱۳۵) پھر فقہی نقطہ نظر سے بھی ابن جوزی کی موافقت میں انہوں نے جواب دیا ہے اور لکھا ہے: ’’ہمار ے ساتھی کہتے ہیں اس بات کا احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ہو اور انس رضی اللہ عنہ نے آپ کو وضو کرتے نہ دیکھا ہو۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر نماز پڑھ لی ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اتنا خون نہ نکلا ہو جو روزہ توڑ دے۔‘‘ یہ سارے احتمالات باطل ہیں ۔ ضعیف کے ضعیف ہونے کا علم دے کر اللہ نے ہمیں اس کے ابطال کے لیے وقت ضائع کرنے سے بچا لیا۔ والحمد للہ علی توفیقہ۔