کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 297
میں صرف یہ مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مجرد فعل وجوب پر دلالت نہیں کرتا بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے وضو کرنا مسنون ہے اگر یہ کہا جائے کہ قے کے بعد وضو کرنا مستحب ہے تواس میں حدیث پر عمل ہو جا تاہے۔
یہ اس باب میں صحیح ترین حدیث ہے اسی سے انہوں نے قے کے بعد وضو کے وجوب پر استدلال کیا ہے حالانکہ اس سے وجوب معلوم نہیں ہوتا ا س لیے کہ اگر اس سے شرعی وضو مراد لیا ہے تو اسی طرح بعض صحابہ سے نکلنے والے خون سے وضوکے واجب ہونے کے سلسلے میں بعض چیزیں آتی ہیں ۔[1] لیکن اس میں وجوب پر دلالت کرنے والی کوئی دلیل نہیں ہے
بلکہ استحباب پر دلالت کرتی ہے اورشرعی دلائل میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو وجو ب کو
[1] مجھے نہیں معلوم کہ اس سلسلہ کی کوئی چیز صحابہ سے ثابت ہے، سوائے اس عمل کے جو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نکسیر کے بارے میں منقول ہے۔امام مالک کے الموطا (۱/۳۸۔۴۶) میں نافع سے روایت کی ہے کہ ’’ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جب نکسیر آتی تو واپس جاتے اور وضو کرتے پھر لوٹ آتے، نماز مکمل کرتے اور کسی سے بات نہ کرتے ۔‘‘
مالک اور ان کے علاوہ ایک جماعت کے طریق سے بیہقی نے اس کی تخریج ’’ا لسنن الکبریٰ‘‘ (۲/۲۵۶) میں کی ہے اور لکھا ہے کہ ’’ یہ عمل ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے اور علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔‘‘ پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے تین طرق سے روایت کی ہے جو سب ضعیف ہیں لیکن میں نے اس کاایک چوتھا طریق پایا ہے جس کی تخریج ابن ابی شیبہ نے ’’المصنف ‘‘ (۲:۱۰۱۴) میں کی ہے: ہمیں بتایا علی بن مسہر نے بواسطہ سعید، بواسطہ قتادہ، بواسطہ فلاس، بواسطہ علی رضی اللہ عنہ ، وہ کہتے ہیں جب نماز میں آدمی کو نکسیر پھوٹ جائے یا قے ہوجائے تو اسے وضو کر لینا چاہیے اور بات نہ کرے اور اپنی نماز مکمل کرے۔‘‘ یہ صحیح سندہے اگرچہ فلاس نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے جیسا کہ احمد وغیرہ نے کہا ہے۔اور الجوہر المنتقیٰ (۲/۶۵۲) میں ابن ترکمانی کا قول کہ ’’یہ صحیح کی شرط پر ہے‘‘ صحیح نہیں ہے۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اپنے مجموعی طرق کے اعتبار سے صحیح ہے بلکہ یہی ظاہر ہے ۔ واللہ اعلم
پھر ابن ترکمانی (۱/۱۴۲‘ ۱۴۳) کہتے ہیں اور ابن عبد البر کی ’’الاستذکار‘‘ میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا معروف مسلک نکسیر سے وضو کا واجب ہونا ہے اور یہ وضو کو توڑ دیتی ہے جب کہ خون بہ رہا ہو۔ اسی طرح جسم سے بہنے والے ہر خون کا یہی حکم ہے۔ اس کے مثل علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نکسیراور جسم سے بہنے والا ہر خون حدث ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں :’’بہنے والے خون کا حکم نکسیر سے ملانا اور اس کی نسبت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا اس روایت کی نفی کرتا ہے جو ابن ابی شیبہ نے بکر بن عبد اللہ المزنی سے کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں ’’میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے چہرے کی ایک پھنسی اکھیڑ دی اور اس سے کچھ خون نکل آیا، چنانچہ آپ نے اپنی انگلی سے اسے رگڑ دیا پھر نمازپڑھی اور وضو نہ کیا۔‘‘
اور اس کی سند صحیح ہے۔