کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 296
[1]اثرم کہتے ہیں ، میں نے احمد سے کہا: لوگ اس حدیث کے بارے میں مذبذب ہیں تو انہوں نے کہا:حسین المعلم اس کو صحیح بنا دیتے ہیں اور ترمذی کہتے ہیں : حسین کی اس حدیث
[1] احمد کے نزدیک اصل الفاظ ’’ قاء فاء فطر‘‘ہیں لیکن لوگوں نے ’’قاء فتوضائَ‘‘ کو ان کی طرف منسوب کر دیا اور اس میں مؤلف نے اپنے دادا مجد الدین عبد السلام کی پیروی کی ہے کیونکہ انہوں نے ’’المنتقٰی‘‘ میں اسی طرح نقل کیا ہے اور ’’رواہ احمد والترمذی‘‘ کی مہربھی لگا دی ۔ اس غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ ابن الجوزی نے اپنی کتاب ’’ التحقیق‘‘ (۱/۱۳۰) میں امام احمد کے طریق سے مذکورہ سند کے ساتھ حسین المعلم کے واسطے سے اس حدیث کی روایت کی ہے اور اس میں الفاظ ’’قاء فتوضاء‘‘ کے ہیں ۔ ابو داؤد اور دارمی نے اور طحاوی نے اپنی دونوں کتابوں میں اور ابن الجارود، دارقطنی، بیہقی، ان تمام لوگوں نے حسین کے طریق سے المسند کی روایت کی طرح روایت کی ہے البتہ ترمذی ان سے مختلف ہیں انہوں نے اسی سلسلہ کو دوسرے الفاظ ’’قاء فتوضاء‘‘ سے روایت کیا ہے لیکن مشہور محقق احمد شاکر رحمہ اللہ نے ترمذی پر اپنے حواشی میں یہ ذکر کیا ہے کہ اس لفظ کے سلسلے میں ترمذی کے مختلف نسخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، کسی نسخے میں پہلے الفاظ ہیں اور کسی نسخے میں بعد کے الفاظ ہیں اور کسی نسخے میں ان دونوں کو جمع کر دیا ہے یعنی ’’فافطر فتوضاء‘‘ ہے۔ اس روایت کی شہادت اس روایت سے بھی ملتی ہے جو مسند (۶/۴۴۹) مطبوعہ مکتبہ اسلامی میں دوسرے طریق سے بواسطہ یعیش بن الولید پوری سند سے ساتھ ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کر دی پھر روزہ توڑ دیا۔ آپ کے پاس پانی لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا‘‘ اور اس کے سارے رجال ثقہ ہیں ، اگر یہ مضطرب نہ ہوتی یا اضطراب کی وجہ نہ پائی جاتی جس کی طرف اثرم کا کلام اشارہ کر رہا ہے۔‘‘ اس پوری جماعت کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو احمد (۵/۲۷۲) اور دوسرے لوگوں نے دوسرے طریق سے بواسطہ بلح بواسطہ ابو شیبہ ابو اطہری کی ہے وہ کہتے ہیں ۔ ثوبان نے کہا:میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے قے کی پھر روزہ توڑ دیا۔یہ بھی معلوم نہیں کون ہیں اور نہ ان کے شیخ کا کچھ پتہ ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے کہا ہے۔ اور ابن حبان نے اپنے قاعدے کے مطابق ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور انہی کی اتباع احمد شاکر نے کی ہے۔انہوں نے بھی اس توثیق پر اعتماد کر کے اس سند کو صحیح قرار دیا ہے اور اس توثیق کی تنقید، جس کا تذکرہ علماء نے کیا ہے ان سے مخفی رہی جیسا کہ میں نے اس کی وضاحت بعض منتحلیں حدیث کی تردید میں اپنے ایک رسالے میں کی ہے لیکن یہ چیزپہلی سند کے لیے شاہد ہونے سے اسے نہیں روک سکتی۔ جب یہ ثابت ہو گیا تو مذکورہ تحریر کا خلاصہ یہ ٹھہرا کہ جماعت کی روایت ترمذی کی تیسری روایت کی مخالف نہیں ہے اور احمد کی روایت اس کی گواہی دیتی ہے اس لیے کہ جماعت کی روایت ثوبان رضی اللہ عنہ کے قول میں وضو پر بھی مشتمل ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ دیا اور وضو کیا۔ اس مفہوم پر تمام روایات متفق نظر آتی ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں رہ جاتا۔ رہی ابو شیبہ اطہری کی روایت جس میں وضو کا ذکر نہیں ہے، تو ضعیف الاسناد ہونے کے باوجود اپنے ماقبل کی روایت کی مخالفت نہیں کرتی جس میں وضو کا اضافہ ہے اس لیے کہ ثقہ کا اضافہ قابل قبول ہے، چاہے کسی دوسرے ثقہ نے اس کا ذکر نہ کیا ہو۔ توجس چیز کااس میں تذکر ہ نہیں ہے وہ ضعیف کیسے ہو گی؟