کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 295
جن لوگوں نے اس حدیث کو ثابت نہیں مانا ہے انہیں کوئی ایسا سلسلہ معلوم نہ ہو سکا جس پر وہ اعتماد کر سکتے۔ انہوں نے اس کی علت بھی واضح کر دی ہے یعنی یہ کہ عیسیٰ بن یونس منفرد ہیں حالانکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ حفص بن غیاث نے ان کی موافقت کی ہے [1] اور ایک دوسری حدیث اس کی گواہی دیتی ہے۔
اور وہ حدیث وہ ہے جسے احمد اور اہل سنن جیسے ترمذی نے ابوداؤد رحمہ اللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ دیا۔ میں نے اس کا تذکرہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: انہوں نے صحیح کہا ہے ۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی انڈیل کر دیا تھا۔ لیکن احمد کے الفاظ یہ ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی پھر وضو کیا ۔‘‘ احمد نے اس کی روایت حسین المعلم کے واسطے سے کی ہے۔[2]
[1] شیخ الاسلام اس ترجیح کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ حدیث صحیح ہے اس لیے کہ جو علت بیان کی گئی ہے وہ پائی نہیں جاتی یعنی عیسیٰ بن یونس کا تنہا ہونا کیونکہ حفص بن غیاث نے ان کی موافقت کی ہے اور یہ دونوں شیخ الاسلام کے بقول ثقہ ہیں ، حجت ہیں جن سے شیخین نے استدلال کیا ہے اور ان دونوں کے سلسلے سے ابن ماجہ (۱۶۷۶) نے حاکم (۱/۴۲۷) ہشام بن حسان کے واسطے سے اس حدیث کی تخریج کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ : ’’ شیخین کی شرط کے مطابق حدیث صحیح ہے‘‘ اور امام ذہبی نے اس سے موافقت کی ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ حدیث صحیح ہے۔ حتیٰ کہ اگر یہ فرض کر لیاجائے کہ عیسیٰ بن یونس تنہا ہیں تو بھی حدیث صحیح ہے کیونکہ وہ ثقہ ہیں ، مامون ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے ’’ التقریب‘‘ میں لکھا ہے، اس لیے ان کا تنہا ہونا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔بھلا یہ حدیث صحیح کیوں نہ ہوگی جب کہ ان کی موافقت بھی ہوگئی ہے۔
[2] اسی طرح دوسری روایتیں بھی آتی ہیں ۔مسنداحمد (۶/۴۴۳) کی یہ حدیث جو حسین کے طریق کے ہے یحییٰ ابن ابی کثیر کے واسطے سے مروی ہے وہ کہتے ہیں مجھے بتایا عبدالرحمن ابن عمرو الاوزاعی نے بواسطہ یعیش بن ولید بن ہشام نے، اور انہیں بتایا ان کے باپ نے، وہ کہتے ہیں مجھے بتایا معدان بن ابی طلحہ نے کہ ابوداؤد نے انہیں بتایا ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی پھر روزہ توڑ دیا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ میں جامع مسجد دمشق میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملااورمیں نے کہا کہ ابو داؤد نے مجھے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ دیا،تو انہوں نے کہا:وہ سچے ہیں ،میں نے آپ کو وضو کا پانی انڈیل کر دیا تھا۔