کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 293
وہ یہ سمجھتے تھے کہ روزہ کھانے پینے اور جماع کرنے سے رکے رہنے کا نام ہے اور ’’صیام‘‘ (روزہ) کالفظ وہ اسلام سے پہلے بھی استعمال کرتے تھے جیسا کہ صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’عاشورہ وہ دن ہے جس میں قریش دورِ جاہلیت میں بھی روزہ رکھتے تھے۔‘‘[1] متعدد سلسلوں سے روایتیں ملی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی فرضیت سے پہلے یوم عاشورہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور ایک منادی روزہ رکھنے کا اعلان کرتا تھا۔ [2] معلوم ہوا کہ اس لفظ کا محل استعمال ان کے ہاں مشہور تھا۔ اس طرح نص اور اجماع سے ثابت ہے کہ حیض کا خون روزہ کو توڑ دیتا ہے۔ حائضہ روزے نہ رکھے بلکہ ان کی قضا کرے یہ بھی لقیط بن صبرہ کی حدیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ناک میں پانی خوب ڈالو، ہاں اگر تم روزے سے ہو تو درست نہیں ہے۔‘‘[3]
[1] مسلم کے الفاظ (۳:۱۴۶) یہ ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ’’قریش جاہلیت میں عاشورہ کے روزے رکھتے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی رکھتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر آئے تو آپ نے روزہ رکھااور روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن جب رمضان کا مہینہ فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چاہے عاشورہ کے روزے رکھے اور جوچاہے نہ رکھے۔‘‘ [2] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں عاشورہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام لانے والے ایک شخص کو حکم دیا کہ ’’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ جس نے کھا لیا ہے وہ بقیہ دن روزے سے رہے اور جس نے نہیں کھایا ہے وہ روزہ رکھے اس لیے کہ آج یوم عاشورہ ہے۔‘‘امام بخاری رحمہ اللہ نے (۱/۱۴۹۸) اس کی تخریج کی ہے اور لفاظ انہی کے ہیں اور مسلم اور دوسرے لوگوں نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔ [3] صحیح حدیث ہے، چاروں اصحاب سنن نے اور ابن جارود نے منتقٰی (۴۶) میں ، حاکم (۴۸۰۱) نے مستدرک میں ، طیالسی نے مسند (۱۳۴۱) میں اور احمد (۳۳۰۴) نے لقیط کے واسطے سے مرفوع روایت کی ہے۔ الفاظ یوں ہیں :’’اچھی طرح وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کر لیا کرو۔اور ناک میں پانی خوب ڈالا کرو…‘‘ حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے۔ ذہبی اور دوسرے لوگوں نے ان کی موافقت کی ہے جیسا کہ صحیح سنن ابی داؤد میں مذکور ہے۔