کتاب: رسائل ابن تیمیہ - صفحہ 291
خطبہ
(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِاَنْفُسِنَا وَمَنْ سَیَّاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُ ہٗ وَرَسُوْلُہٗ صَلّیٰ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسْلِیْماً۔)) [1]
[1] یہ خطبہ‘ خطبہ حاجت کے نام سے مشہور ہے۔ صحیح حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو اس کی تعلیم دیتے تھے کہ وہ اپنے کلام اور خطبوں سے پہلے اسے پڑھا کریں جس سے اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے اللہ سے مدد چاہیے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے رسائل اور کتابوں میں اس خطبہ سے آغاز کرنے کا بہت اہتمام کرتے ہیں ۔ جس سے آپ کے اتباع سنت اور اس کو زندہ کرنے کے جذبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ میں نے مکتبہ ظاہریہ کے مخطوطہ میں ان کی تحریرپڑھی ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حاشیہ میں اسے درج کر دیا جائے۔ اس خطبہ کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں :
میں نے عوام الناس کو خطاب کرنے، عام و خاص سارے لوگوں کومخاطب بنانے، انہیں کتاب وسنت کی تعلیم دینے، اس کی ان کے اندر سمجھ پیدا کرنے اور انہیں وعظ و نصیحت کرنے اور مجادلہ و مباحثہ کرنے میں اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ اس نبوی خطبہ سے خطاب ہو جب کہ ہمارے زمانے کے شیوخ جن سے ہم نے اخذ و اکتساب کیا ہے اور دوسرے لوگ مساجد و مدارس میں تفسیر و فقہ کی مجلسوں کا افتتاح دوسرے خطبوں سے کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں :
’’ الحمد للّٰہ رب العالمین وصلی اللّٰہ علی خاتم النبیین وعلٰی الہ وصحبہ اجمعین ورضی اللّٰہ عنا و عنکم و عن مشایخنا وعن جمیع المسلمین‘‘ یا ’’ وعن السادۃ الحاضرین و جمیع المسلمین ‘‘
اسی طرح میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ نکاح میں وہ مسنون خطبہ نہیں پڑھتے اور ہر قوم دوسری سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث صرف نکاح کے لیے ہی خاص نہیں ہے بلکہ تمام ضروریات کے لیے یہ خطبہ ہے اور نکاح بھی اس میں شامل ہے۔
تمام عادات و عبادات میں اور اقوال و اعمال میں شرعی سنتوں کا خیال رکھنا ہی صرا ط مستقیم کا منتہا ہے اور جو اس کے ماسوا ہے اگرچہ شریعت نے اس سے روکا نہ ہو لیکن اس میں نقص ہے اوروہ نظر انداز کر دینے کے لائق ہے۔ کیونکہ بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے۔‘‘
میرا ایک مختصر رسالہ ہے جس میں میں نے اس باب کی ساری احادیث کو جمع کر دیا ہے، ان کے طرق اور الفاظ، صحیح اور غیر صحیح و غیرہ کی تخریج کی ہے اور ان سے متعلق بعض نوٹس بھی بڑھائے ہیں ۔ چند سال قبل یہ رسالہ طبع ہو چکا ہے اور مکتب اسلامی نے مزید اضافوں کے ساتھ دوبارہ شائع کیا۔
نوٹ:… حدیث کے تمام سلسلوں میں شہادتین میں شہادت کا فعل واحد استعمال ہوا ہے جب کہ اس سے پہلے تمام افعال جمع استعمال ہوئے ہیں ۔ اس میں ایک لطیف حکمت ہے جسے شیخ الاسلام نے اجاگر کیا ہے۔میں نے اپنے اس رسالہ میں اسے نقل کیا ہے۔ جسے ضرورت محسوس ہو اس رسالہ کے ص ۱۵ پر دیکھ لے۔