کتاب: قربانی کی شرعی حیثیت اور پرویزی دلائل پر تبصرہ - صفحہ 43
٭ قربانی کرنے والے کو ذی الحجہ کے چاند کے بعد قربانی کرنے تک حجامت نہ کرانی چاہیے۔ (مسلم) ٭ غریب آدمی بھی چاند کے بعد نماز عید تک حجامت نہ کرائے تو مستحق ثواب ہے۔ ٭ 10 ذی الحجہ یعنی عید کے دن قربانی کرنا اگرچہ افضل ہے لیکن نفس قربانی 13 ذی الحجہ تک جائز ہے۔ ٭ قربانی کی کھالیں مسکین کا حق ہے اور بہتر ہے کہ کھال یا پھر کھال کے پیسے (کھال بذات خود فروخت نہیں کر سکتا ہے۔الاثری ) براہ راست کسی مسکین کو دیئے جائیں۔(حافظ ابراہیم کمیر پوری) قربانی کی شرعی حیثیت اسلام کی چودہ صد سالہ تاریخ شاہد ہے کہ عیدالاضحیٰ کے ایام میں بلا امتیاز مسلک ومکتب اور بلاتفریق عرب و عجم معمول چلا آیا ہے۔ اور اس ڈیڑھ ہزار سال کے طویل دور میں ہر ملک، ہر قوم، ہر زمانہ اور ہر دور کے کروڑوں مسلمان پورے ذوق اور شوق سے اس سنت ابراہیمی پر دیوانہ وار عمل کرتے آئے ہیں، اور ہر سال اس مقدس تہوار پر کروڑوں جانوروں کا خون بہا کر اس سنت کو تازہ اور اس مبارک عہد کی تجدید کی جاتی رہی ہے۔ (مؤلف)