کتاب: قربانی کی شرعی حیثیت اور پرویزی دلائل پر تبصرہ - صفحہ 33
بہرحال پرویز صاحب نے اتنا تو مان لیا کہ دین میں یہ ترمیم و تحریف دور حریت (خلافت راشدہ) کے بعد دور ملوکیت (عہد بنی امیہ و بنی عباس) میں شروع ہوئی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دور ملوکیت سے پہلے دین اپنی اصلی روح کے ساتھ موجود اور پیشوائیت کی تمام آلائش سے پاک اور صاف تھا۔ ایک مطالبہ ہم ان کے ان مسلمات کی روشنی میں ان سے سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ اس امر کا کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہیں کہ خلفائے راشدین کے دور میں قربانی بین الاقوامی ضیافت کے لئے استعمال ہوتی تھی، اور تاریخ سے اس کی شہادت دے سکتے ہیں کہ اسلام کے دور حریت میں اس قسم کی ضیافت کا تصور بھی موجود تھا؟ اور قیام منیٰ کے ایام میں بصرہ، کوفہ اور شام وغیرہ کے حجاج نے دوسرے ملک کے حجاج اور مقامی لوگوں کی اس اونچی سطح پر دعوت کی ہو؟ ہاں یہ بھی فرمائیے کہ قرآن مجید میں اس بین الاقوامی ضیافت بلکہ "منیٰ " میں قیام کا ذکر کہاں ہے؟ یا لگے ہاتھ یہ کہہ دیجئے کہ قرآن مجید بھی تحریف و ترمیم سے محفوظ نہیں رہا۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ حفاظت تشنہ وفا رہ گیا اور اس کی مخلوق اس کے ارادہ میں حائل ہو گئی۔