کتاب: قربانی کی شرعی حیثیت اور پرویزی دلائل پر تبصرہ - صفحہ 29
کے لئے استعمال ہوتی تھی، اور تاریخ سے اس کی شہادت دے سکتے ہیں کہ اسلام کے دور حریت میں اس قسم کی ضیافت کا تصور بھی موجود تھا؟ اور قیام منیٰ کے ایام میں بصرہ، کوفہ اور شام وغیرہ کے حجاج نے دوسرے ملک کے حجاج اور مقامی لوگوں کی اس اونچی سطح پر دعوت کی ہو؟ ہاں یہ بھی فرمائیے کہ قرآن مجید میں اس بین الاقوامی ضیافت بلکہ "منیٰ " میں قیام کا ذکر کہاں ہے؟ یا لگے ہاتھ یہ کہہ دیجئے کہ قرآن مجید بھی تحریف و ترمیم سے محفوظ نہیں رہا۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ حفاظت تشنہ وفا رہ گیا اور اس کی مخلوق اس کے ارادہ میں حائل ہو گئی۔ نامعلوم ان لوگوں کو بے ثبوت اور غیرذمہ دارانہ باتیں کہتے ہوئے حیا کیوں نہیں آتی؟ ہمیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ قدرت ان سے انکار حدیث کے جرم کا انتقام لے رہی ہے اور اس گناہ کی پاداش میں ان کا تعلق کتاب اللہ سے منقطع ہو رہا ہے۔ موجودہ دور میں حجاج کی قربانی پرویز صاحب نے فقرہ نمبر: 2 میں جس طرح عام دنیائے اسلام کی قربانیوں کو رسم کہا۔ اسی طرح موجودہ دور میں مکہ مکرمہ میں حجاج کی قربانی کو بھی "محض ایک رسم کی تکمیل" قرار دیا ہے۔ اس سے ان کا منشاء غالباً یہ ہے کہ مراسم حج میں قربانی مقصود بالذات نہ تھی۔ اور نہ ہی براہ راست تقرب الٰہی کا وسیلہ! بلکہ اس سے اصل غرض